حیاتِ نور — Page 734
اتِ نُـ ـور ۷۲۹ کہے کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔خلیفہ المسیح الاول کی وصیت کا یہ ایک ہی زریں فقرہ ہمارے اور مولوی محمدعلی صاحب اور ان کے ہمنواؤں کے درمیان جملہ اختلافی مسائل کو حل کرنے کے لئے کافی ہے۔یہ تو مولوی صاحب موصوف کو بھی مسلّم ہے کہ اس فقرہ میں خلیفہ المسیح کے جانشین سے مراد فرد واحد ہے انجمن نہیں۔اور ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وصیت کے مطابق حضور کے جانشین کا کسی کے ساتھ نیک سلوک کرنا یا چشم پوشی کرنا یا نرمی اور درگذر سے کام لینا یہ اس کے اپنے ذاتی اختیار سے ہوگا نہ کہ قوم یا انجمن کی اجازت اور وساطت سے۔اگر قوم یا انجمن کی اجازت اور وساطت کے ساتھ کسی کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے گا یا چشم پوشی اور نرمی اور درگذر سے کام لیا جائے گا تو یہ سب کچھ قوم یا انجمن کی طرف منسوب ہوگا نہ کہ خلیفہ المسیح کے جانشین کی طرف۔اور ان تمام امور کا کریڈٹ (credit ) قوم یا انجمن کو ملے گا نہ کہ جانشین کو۔لیکن اگر ان باتوں کا صدور خلیفہ المسیح کے جانشین سے ہوگا اور کلی طور پر اس کے ذاتی اختیار سے ہوگا تو پھر یہ مجھ لینا نہایت آسان ہے کہ اس جانشین کو قوم کی ہر شے پر جس میں ہر ایک انجمن بھی شامل ہے کامل اقتدار اور تصرف حاصل ہوگا اور قوم اور انجمن اس کے فیصلوں اور اختیار کے تابع ہوگی نہ کہ وہ ان کے فیصلوں اور اختیار کا تابع ہوگا۔قوم اور انجمن کے فیصلے اس کے حضور میں آخری منظوری کے لئے پیش ہوں گے اور وہ جس فیصلہ کو چاہے گا منظور کرے گا اور جسے چاہے گا رد کرے گا اور اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا جس کی نہ کہیں اپیل ہوسکتی ہے اور نہ شکایت اور جس کے فیصلہ کو جماعت کا فرد یا انجمن چیلنج کرنے کی مجاز نہیں کیونکہ وہ زمین پر رب العرش کا نمائندہ ہوتا ہے۔اس کے ارادوں اور فیصلوں میں مشیت الہی کار فرما ہوتی ہے ملائکہ اس کی اتباع کرتے ہیں اور اقرار لاعلمی کے ساتھ عجز وانکسار۔لیکن ابلیس اور تاریکی کے فرزند اس کا انکار کرتے ہیں اور انا خیر منہ کے مردود قول کے ساتھ ابی و استکبار۔یہی وہ پاک وجود ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ خلعت خلافت سے لمبوس فرماكر اني جاعل فی الارض خلیفہ کے لقب سے ملقب فرماتا ہے۔مبارک ہیں وہ جوان کی اطاعت میں رضائے انہی حاصل کرتے ہیں۔غرض حضرت خلیفہ المسح الاول نے اپنی وصیت کے اس ایک ہی فقرہ میں قوم کے سامنے اپنی وفات سے پہلے پھر یہ مسئلہ واضح کر دیا کہ میرے بعد میرا جانشین فرد واحد ہوگا۔وہ میری طرح ہی خلیفہ اصحیح ہوگا۔مجھے بھی خدا ہی نے خلیفہ بنایا تھانہ کسی انجمن نے۔میرے جانشین کو بھی خدا ہی خلیفہ بنائے گا میرے زمانہ خلافت میں انجمن میری مطبع تھی اور میں اس کا مطاع ایسے ہی میرے جانشین کی بھی انجمن مطیع ہوگی اور میرا جانشین مطاع۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد میرے وجود