حیاتِ نور — Page 733
۷۲۸ حي اتِ نُ ـور اگر حضرت خلیفہ المسیح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت کے مد نظر کسی فرد کو حضور کا جانشین ضرور بنانا ہی ہے تو پھر یہ ضروری ہے کہ اس کے اختیارات کو محدود کر دو اور کم از کم پانچ چھ ماہ تک غور و فکر کرنے کے بعد فیصلہ کرو۔کہ کس کو حضور کا جانشین بنایا جائے۔جناب مولوی صاحب موصوف کا یہ رویہ کہاں تک تقومی پر مبنی تھا۔اس کا فیصلہ قارئین کرام خود ہی کر سکتے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب کے شائع کردہ ٹریکٹ کا جواب مولوی محمد علی صاحب کے شائع کردہ ٹریکٹ میں سے ہم چند اہم اور ضروری اقتباسات او پر درج کر آئے ہیں یہاں ہم ان کی پیش کردہ پانچ باتوں کا جواب دیتے ہیں۔اور یہ پانچوں باتیں در حقیقت پانچ وساوس یا مغالطے تھے جن میں جناب مولوی صاحب موصوف قوم کو محض اپنی نفسانی اغراض کی خاطر مبتلا کر دینا چاہتے تھے وباللہ التوفیق۔یادر ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی وصیت میں اپنے جانشین کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے اور نئے دوستوں سے نیک سلوک کرے اور چشم پوشی اور نرمی اور درگذر سے کام لے حضرت خلیفتہ المسیح الاول اللہ تبارک و تعالے کی لا تعدا در حمتیں و برکتیں آپ پر تا ابد نازل ہوں ) نے کتنے سادہ لیکن جامع اور پر حکمت الفاظ میں اپنے بعد ہونے والے جانشین کے اوصاف و اختیارات کو واضح طور پر بیان فرما دیا کہ وہ ان امور کے بجالانے میں نہ کسی کے ماتحت ہوگا اور نہ کسی کا محتاج۔اسے کسی کے ساتھ نیک سلوک کرتے وقت نہ تو کسی انجمن کے صدر یا سکریٹری کے پاس درخواست گزارنی پڑے گی کہ مثلا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فلاں پرانے بانے صحابی کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہتا ہے، اسے اجازت دی جائے اور نہ ہی اسے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے کسی پرانے بانٹے وست کے کسی قصور یا لغزش یا غلطی یا کوتاہی یا خطا یا جرم پر چشم پوشی اور نرمی اور درگزر سے کام لیتے وقت ممبران صدر انجمن کی کسی شوری کی اجازت یا فیصلہ حاصل کرنا ہوگا۔بلکہ وہ ایک با اختیار جانشین ہوگا جسے کسی کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے لیے قوم کی ہر شے و ملک پر گویا مالکانہ تصرف واختیار ہوگا۔اور جس کے دست جود وسخا پر پابندی عائد کرنے کا کوئی مجاز نہ ہوگا۔اگر قوم یا صدر انجمن کے قوانین ان کی دانست میں کسی شخص کو قصور وار یا مجرم یا خطا کارگردانتے ہیں تو حضرت سیدنا خلیفة المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت کے مقدس الفاظ حضور کے جانشین کو کامل اختیار و اقتدار تفویض کرتے ہیں کہ وہ قوم یا انجمن کے فیصلہ کی پرواہ نہ کرتا ہوا چشم پوشی بری اور درگذر سے کام لے اور کسی کا حق نہ ہو گا کہ اس سے