حیاتِ نور — Page 735
اتِ نُـ ـور سے سلسلہ احمدیہ میں اللہ تعالیٰ نے سلسلہ خلافت کو جاری فرمایا۔میری وفات کے بعد میرے جانشین کے ذریعہ سے وہ سلسلہ خلافت کو جاری رکھے گا۔تاکہ وہ حضرت کے نئے اور پرانے دوستوں سے نیک سلوک کرے اور چشم پوشی ، نرمی اور درگزر سے کام لے۔ایک بات مولوی صاحب نے اپنے ٹریکٹ میں دیکھی ہے کہ جس شخص کو خلیفہ مقرر کیا جائے اس کے ہاتھ پر پر انے احمدیوں کو بیعت کرنے کی ضرورت نہیں۔حالانکہ اس امر کا فیصلہ خلافت اوٹی کے وقت ہو چکا تھا۔خود صدرانجمن کے معتمدین یہ فیصلہ دے چکے ہیں کہ تمام احمدی جماعت کے نئے اور پرانے سب ممبروں کا فرض ہے کہ وہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی بیعت کریں اور ان کا فرمان ہمارے لئے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔ایک بات مولوی صاحب نے یہ پیش کی ہے کہ اگر خلیفہ مقرر کرنا ہی ہے تو پانچ چھ ماہ تک انتظار کرو۔حالانکہ حضرت اقدس کے وصال پر حضرت خلیفہ امسیح الاول نے سب سے پہلی تقریر میں فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے“ گویا مولوی صاحب کی اس بات کا جواب بھی حضرت خلیفہ المسیح الاول ہی دے چکے ہیں کہ جماعتی نظام واتحاد اور تعلیم وتربیت کی خاطر جماعت کا کسی ایک ہاتھ پر پیشتر اس کے کہ کسی وفات یافتہ ما مور یا خلیفہ کو دفن کیا جائے ، بیعت کر کے جمع ہو جانالازمی ہے۔اور اس امر کو کسی دوسرے وقت پر ٹال دینا بہت سے فتنوں اور فسادات کا دروازہ کھولنا ہے۔پھر ایسے پاک اور مقدس وجود کے انتخاب کے لئے وہی گھڑیاں سب سے زیادہ مبارک ہوتی ہیں جب وجود متوفی کا جسد اطہر جماعت کے قلوب میں وه سوز و گداز ، ده رقت و سوزش و خلوص و در د اور وہ کرب و اضطرار پیدا کر رہا ہوتا ہے کہ مومنین ومخلصین ماہی بے آب کی طرح تڑپ تڑپ کر آسمان سے نزول سکینت و اطمینان کے لئے بے چین و بے قرار ہو ہو کر دست بدعا ہوتے ہیں تب خدائے بزرگ و برتر اپنی رحمت کاملہ سے ان پر خلوص دلوں پر روح القدس کا نزول فرماتا ہے اور روحوں کو کھینچ کھینچ کر اس ہاتھ ہاں اس مقدس ہاتھ کی طرف جو آسمان پر برگزیدہ ہاتھ قرار پاچکا ہوتا ہے رہنمائی کرتا ہے تا وہ اس ہاتھ پر جمع ہو کر پھر تسکین تسلی پائیں۔اور جہاں ایک تسلی دہندہ کو سپرد خاک کرتے ہوئے ان کے دل و فور غم سے خون ہو رہے ہوں وہاں ایک پاک و مطہر وجود کی موجودگی انہیں بے انتہا فرحت وراحت سے بھی ہمکنار کر رہی ہو۔مولوی محمد علی صاحب کی تجویز کے مطابق مہینوں بعد بلکہ میں تو کہتا ہوں مہینوں بعد کا تو کیا ذ کر ہفتوں ، دنوں، بلکہ ایک دن بعد بھی روحوں میں، یہ یاس و آس، یہ خوشی و غم ، رنج و راحت، اضطراب و سکینت اور یہ بے قراری و تسکین