حیاتِ نور — Page 50
چھ پیسوں کی خرید میں تو نو پیسوں کی پک گئیں۔آخر شام تک چار آنے ہو گئے۔دو پیسے کی روٹی کھا کر رات کو سور ہے۔دوسرے دن بھی یہی کام کیا۔چند روز کے بعد دیا سلائیوں کا اُٹھانا مشکل ہو گیا۔پھر یہ کام چھوڑ دیا اور وہ چیزیں خریدیں جن کی عورتوں کو ضرورت ہوتی ہے۔اس کام میں اللہ تعالیٰ نے اتنی ترقی دی کہ نصف دُکان کرایہ پر لے لی پھر اس قدر ترقی ہوئی کہ اپنے ملک میں واپس آگئے۔بمبئی سے قرآن شریف خریدتے اور ارد گرد کے دیہات اور قصبات میں جا کر فروخت کر دیتے۔کچھ عرصہ کے بعد آپ کی ایسی ساتھ بڑھی کہ میں ہزار روپیہ کے قرآن شریف خرید کر بھیرہ لے گئے۔وہاں میرے والد ماجد نے وہ سارے کے سارے خرید لئے اور اس طرح آپ کو نفع عظیم ہوا۔اسی طرح چند بار پنجاب میں قرآن کریم لیجا کر فروخت کرنے سے آپ بہت مالدار ہو گئے اور پھر کپڑے کی تجارت شروع کر دی اور برہان پور میں ہی کوٹھی بنا کر مستقل سکونت اختیار کر لی۔آپ نے متعدد بار یہ بات بیان کی کہ آپ مال بہت جلد فروخت کر دیتے تھے اور منافع بہت کم لیتے تھے۔حضرت خلیفہ اسی الاول فرماتے ہیں کہ اس سے مجھ کو اس حدیث کا مضمون صحیح ثابت ہوا کہ جس میں ارشاد ہے کہ تجارت میں بڑا رزق ہے۔اسکے بمبئی میں فوز الکبیر کی خرید جب آپ بمبئی پہنچے تو مولوی عنایت اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس زمانہ میں آپ کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب فوز الکبیر کا بڑا شوق تھا۔مولوی عنایت اللہ صاحب نے کہا۔پچاس روپیہ میں کتاب مل سکتی ہے۔آپ نے فورا پچاس روپیہ کا نوٹ نکال کر دیدیا اور کتاب لے کر چل دیئے۔مولوی صاحب نے کہا۔آپ اس قدر جلدی کیوں کھڑے ہو گئے۔فرمایا: ”میں نے کہا کہ بیع شری میں ایک مختلف مسئلہ ہے۔حنفیہ تفارق قولی کے قائل ہیں اور محدثین تفارق جسمی کی طرف مائل ہیں۔میں چاہتا ہوں۔احتیاط دونوں کے موافق بیع صحیح اور قومی ہو جائے“۔اللہ للہ ! ایک چھوٹی سی کتاب کے لئے جواب چند آنوں میں ہر جگہ سے مل سکتی ہے۔اس قدر کثیر رقم خرچ کرنا کیا کسی معمولی انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ آپ کو دینی کتابوں کا کس قدر شوق تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ مولوی عنایت اللہ بھی ایک صالح آدمی تھے۔میرے اس شوق کو دیکھ کر ان پر بہت اثر ہوا۔اور انہوں نے وہ پچاس روپے واپس کر دئیے۔میں نے بہتیرا کہا کہ