حیاتِ نور — Page 49
ـور ۴۹ اول تعالیٰ کی ایک صفت فعال لما يريد ہے۔وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔فرمایا کہ بس ہمارا مطلب اسی سے ہے۔یعنی تمہاری کوئی خواہش ہو اور وہ پوری نہ ہو تو تم اپنے نفس سے کہو کہ میاں! تم کوئی خدا ہو۔رسول کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آتا ہے وہ یقین کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی سے لوگ جہنم میں جائیں گے۔اس لئے اس کو بہت رنج ہوتا ہے۔تمہارا فتویٰ اگر کوئی نہ مانے تو وہ یقینی جہنمی تھوڑا ہی ہو سکتا ہے۔لہذا تم کو اس کا رنج نہ ہونا چاہئے۔حضرت مولوی صاحب کے اس نکتہ نے ابتک مجھ کو بڑی راحت پہنچائی۔نجز اہم اللہ تعالیٰ کے سفر حرمین اور مولوی عبد اللہ صاحب سے ملاقات حرمین شریفین کا ارادہ کر کے جب آپ بھوپال سے روانہ ہوئے تو راستہ میں بُرہان پور اترے وہاں آپ کے والد ماجد کے دوست مولوی عبد اللہ نام آپ کو ملے۔انہوں نے آپ کی بہت ہی خاطر مدارات کی۔بوقت رخصت آپ کو مٹھائی کی ایک ٹوکری دی۔جب راستہ میں ٹوکری کھولی تو اس میں ایک ہزار روپیہ کی ہنڈی مکہ معظمہ کے ایک ساہوکار کے نام اور کچھ نقد روپیہ بھی تھا۔نقد روپیہ تو آپ نے استعمال کر لیا۔لیکن ہنڈی کا روپیہ آپ نے وصول نہیں کیا۔بہر حال مولوی صاحب کے حوصلہ کی داد دینی پڑتی ہے۔مولوی عبداللہ صاحب کی داستان تجارت آپ فرماتے ہیں کہ مولوی عبد اللہ صاحب نے بیان کیا کہ وہ ساہیوال ضلع شاہ پور کے باشندہ ہیں۔کسی طرح حج کے ارادہ سے مکہ معظمہ میں پہنچ گئے۔دن بھر بھیک مانگ کر گزارا کرتے تھے۔ایک دن خیال آیا کہ اگر بیمار ہو جاؤں تو پھر کیا ہو؟ اس خیال کے آتے ہی بیت اللہ شریف گئے اور پردہ پکڑ کریوں اقرار کیا: "اے میرے مولا! گوتو اس وقت میرے سامنے نہیں مگر میں اس مسجد کا پردہ پکڑ کر عہد کرتا ہوں کہ کسی بندے اور کسی مخلوق ہے اب نہیں مانگوں گا۔یہ عہد کر کے پیچھے ہٹ کر بجھ گئے۔اتنے میں ایک شخص آیا اور ڈیڑھ آنہ کے پیسے اُن کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔آپ نے اس خیال سے وہ پیسے رکھ لئے کہ آپ نے کسی سے سوال تو نہیں کیا۔وہاں سے اُٹھے، دو پیسے کی روٹی کھائی اور چار پیسوں کی دیا سلائیاں خریدی۔وہ چھ پیسوں کی فروخت ہو گئیں۔پھر