حیاتِ نور — Page 51
۵۱ مجھ پر حج فرض ہو چکا ہے۔میں محتاج نہیں لیکن انہوں نے وہ روپے واپس نہ ہی لئے۔ایک صاحب کی نجی کم جانے کا واقعہ بمبئی سے روانگی کے وقت آپ کے وطن کے پانچ آدمی مل گئے۔ان کے باعث آپ کو راستہ میں بہت ہی آرام ملا۔لیکن ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا اور وہ یوں کہ ایک صاحب نے کہا کہ میرے صندوق میں جگہ کافی ہے۔آپ اپنی کتابیں میرے صندوق میں رکھ دیں۔آپ نے رکھ دیں۔ایک دو روز کے بعد اتفاقاً ان کی تجھی کم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ تمہاری کتابوں کی وجہ سے صندوق بھاری تھا اس لئے اس کی کنجی کسی نے پرالی ہے، تم ابھی سنجی پیدا کرو۔آپ نے اُسے بڑا سمجھایا۔بہت منت سماجت کی مگر اس نے نہ مانا تھا نہ مانا۔آخر اللہ تعالیٰ سے بڑی دعا کی۔خدا کا کرنا اہی رات ترکوں کے کیمپ پر چوروں نے حملہ کیا۔انہوں نے تعاقب کیا۔بھاگتے چوروں کی گنجیاں وہاں ہی رہ گئیں۔اب ترک سنجیوں کے مجھے لے کر ہندیوں کے کیمپ میں آئے تا ان لوگوں کو پکڑ لیا جائے جن کے صندوقوں کو وہ کنجیاں لگ جائیں۔آپ نے ایک شرک کے ہاتھ میں گنجوں کا ایک لکھا دیکھا جس میں وہ کنجی بھی تھی آپ نے اس شرک کو کہا کہ یہ نجی تو میری ہے۔مجھے بیشک پکڑ لو مگر یہ نجی مجھے دیدو۔وہ پہلے کچھ خفا سا ہوا اور پکڑ لینے کی دھمکی بھی دی۔مگر پھر تصرف الہی کے ماتحت وہ کنجیوں کا تمام کچھا آپ کی طرف پھینک کر چلا گیا۔نجی والا یہ سارا نظارہ دیکھ رہا تھا۔اور دل ہی دل میں سخت خوفزدہ تھا کہ اگر آپ نے کہہ دیا کہ یہ بھی اس کی ہے تو میں پکڑا جاؤں گا۔مگر آپ نے ساری بکا اپنے سر پر لے لی اور نجی اس کے حوالہ کر دی۔پھر تو وہ بہت ہی شرمندہ ہوا اور معذرت کرنے لگا۔کے یمن کے علماء سے ملاقات راستے میں جہاز کچھ مدت حدیدہ کی بندرگاہ میں بھی ٹھہرا۔آپ یمن کے علماء کو دیکھنے کے لئے حدیدہ سے مراعہ تشریف لے گئے اور علماء سے ملاقات کی۔ایک نوجوان نے آپ سے الفیہ کے چند اسباق پڑھ کر آپ سے الفیہ کی اجازت بھی لکھوائی۔مکہ معظمہ میں نزول مکہ معظمہ پہنچنے پر جو مطوف آپ کو ملا۔آپ اس کی ذہانت اور ہوشیاری سے بہت متاثر ہوئے۔آپ فرماتے ہیں: جب ہم مسجد بیت اللہ میں داخل ہوئے تو معطوف کی پہلی آواز یہ تھی یا بیت