حیاتِ نور — Page 665
۶۶۰ نا کامی کو چھپانے کے لئے جماعت کے آگے یہ رونا رویا کہ تم لوگ چونکہ میری اطاعت نہیں کرتے۔اس لئے جماعت لا ہور ترقی نہیں کر سکی۔اگر تم میرے حکم کی تعمیل کرنا شروع کر دو۔بلکہ میرے اشاروں پر چلو تو پھر دیکھو کہ کس طرح ترقی ہوتی ہے۔غالباً انہوں نے محسوس کیا ہوگا کہ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھانا چے گی۔جب یہ لوگ مرکز احمدیت سے الگ ہی اس لئے ہوئے ہیں کہ ان میں " قلت تدبر اور کوتاہ بینی" کے نتیجہ میں خودسری پیدا ہو چکی تھی۔تو اب یہ اطاعت کرینگے کیسے؟ لہذا اپنی ناکامی کو ان کے سر تھوپ دینا ہی مناسب ہے۔اظہار الحق نمبر ۲ وسوسه نمبر ۵ جماعت کو اس بات پر ایمان ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود کے بعد کوئی مصلح موعود یا مامور آئندہ صدی کے سر پر ہی آئے گا نہ کہ حضرت صاحب کے چند ہی سال بعد۔یہ باطل خیال ہے جو بذریعہ الحکم پھیلایا جا رہا ہے۔اور اس میں سوائے جماعت کو پیر پرستی کے گڑھے میں پھینکنے کے اور کوئی مقصد نہیں۔کیونکہ جب مولوی نورالدین صاحب جیسا عالم قرآن و حدیث اور بوڑھا جہاندیدہ انسان باوجود زمانہ کا سرد گرم دیکھیے ہونے کے فتنہ پردازوں کے دھوکے میں آ سکتا ہے۔تو نا تجربہ کار بچے سوائے قوم کو فتنہ پردازی کا آماجگاہ بنانے کے اور کیا کر سکتے ہیں۔موجودہ حریت کے زمانہ میں غیر ماموروں کی اندھی غلامی خلاف انسانیت ہے۔اس لئے ہماری جماعت کو اپنا آئندہ پروگرام حسب الوصیت جمہوری رنگ میں بدل دینا چاہئے۔جس کے ذریعہ ہمارے جملہ دینی و دنیاوی اور قومی معاملات طے ہوا کریں گے۔اور دینی فتاویٰ بھی وہیں سے جاری ہوں۔اس وقت جتنے علماء اس لائق ہیں۔وہ انجمن میں شامل کئے جاویں اور جو فتویٰ ہو وہ جمہوریت کے رنگ میں دیا جاوے نہ کہ شخصی حیثیت جواب یہ کہاں لکھا ہے کہ مصلح موعود آئندہ صدی کے سر پر ہی آئے گا۔اگر سر پر آنے کی شرط ہوتی۔تو ـور