حیاتِ نور — Page 666
حضور بشیر متوفی کے متعلق یہ کیوں فرماتے کہ: اجتہادی طور پر گمان کیا جاتا تھا کہ کیا تعجب کہ مصلح موعود یہی لڑکا ہو۔کے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ حضور یہی سمجھتے تھے کہ پسر موعود حضور کی موجودہ اولاد میں سے ہی ہوگا۔گو بشیر متوفی سے متعلق جو حضور کا اجتہاد تھا۔وہ صحیح ثابت نہ ہوا۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بچہ بھی مصلح موعود نہیں ہو گا۔ہونا بہر حال حضور کی موجودہ اولاد سے ہی تھا۔سوالحمد للہ کہ سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ہو گئے۔اگر حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب جیسا عالم قرآن و حدیث اور بوڑھا جہاندیدہ انسان دھو کے میں آسکتا ہے۔تو کیا مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے دھو کے میں نہیں آسکتے ؟ اگر آ سکتے ہیں تو آپ لوگ ان کو واجب الاطاعت امیر بنانے کے لئے کیوں ”پیغام صلح میں مضامین لکھ لکھ کر شائع کرتے رہے۔یہ تو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ سلسلہ احمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت کا قیام ضروری تھا اور یہ بھی واضح بات ہے کہ جماعت احمدیہ میں حقیقتا بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر میں بھی آپ سے زیادہ متقی اور پرہیز گار اور کوئی انسان نہ تھا اور بیعت بھی سب سے پہلے آپ ہی نے کی تھی۔لہذا جو کام آپ کر سکتے تھے۔وہ کام یقینا کوئی دوسرا آدمی نہیں کر سکتا تھا۔اور تجربہ سے بھی یہی ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد اگر کسی انسان نے گرتی ہوئی جماعت کو سنبھالا۔تو وہ آپ ہی کا وجود تھا۔لہذا ٹریکٹ لکھنے والے کا یہ کہنا کہ آپ نعوذ باللہ کسی شخص کے دھوکے میں آگئے تھے۔حد درجہ کی مطلب پرستی بلکہ گستاخی ہے۔اگر الوصیت کا یہی منشا ہوتا کہ آئندہ کے لئے خلافت کی بجائے انجمن کی حاکمیت ضروری ہے۔تو جب آپ لوگ مرکز احمدیت سے الگ ہو گئے اور لاہور میں آپ نے اپنی الگ انجمن بنالی۔تو یہ تجربہ آپ کو وہاں سے کرنا چاہئے تھا کہ انجمن سے ہی کام چلاتے۔انجمن ہی خطبات پڑھتی ، انجمن ہی لوگوں سے بیعت لیتی ، انجمن ہی اپنا اعلیٰ نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرتی ، انجمن ہی مذہبی مسائل پر مشتمل کتابیں لکھی، انجمن ہی قوم کے سامنے آئندہ کے لئے لائحہ عمل پیش کرتی۔مگر یہ کیا ہوا کہ آپ نے ایک شخص کو اپنا امیر تسلیم کر لیا اور قوم سے یہ اپیلیں کرنے لگ گئے کہ اب اسے واجب الاطاعت مانو اور اس کے اشاروں پر چلو۔ورنہ کبھی ترقی نہ کر سکو گے۔وغیرہ وغیرہ اگر دینی فتوے جاری کرنے کا کام بھی انجمن نے کرنا تھا۔تو چاہئے تھا کہ انجمن کے سارے ممبر عالم دین ہوتے۔تا ان کی اکثریت کا فتوی انجمن کی طرف منسوب ہوتا۔موجودہ صورت میں جبکہ