حیاتِ نور — Page 664
ـور ۶۵۹ کی طرف لوٹ آئیں۔کیونکہ اب تو صرف لفظی نزاع باقی رہ گیا ہے۔”واجب الاطاعت امیر کے تقرر کو وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں۔اور ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ "امیر" کی بجائے ” خلیفہ" کا لفظ رکھ لو۔تا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کی لفظا و معنا دونوں طرح تعمیل ہو جائے۔ور نہ دنیا کہے گی کہ یہ لوگ امیر کی اطاعت تو الگ رہی۔اپنے مسیح موعود کی اطاعت بھی نہیں کرتے۔وسوسه نمبر ۴ یک غلطی تو ساری قوم کر بیٹھی ہے۔اگر آئندہ کے لئے اس غلطی پر اصرار کیا گیا اور شخصی غلامی اختیار کر کے اپنی ذہنی خداداد طاقتوں کو ایک غیر مامور شخص کے ہاتھوں دیدیا گیا تو قوم میں بجائے قومیت پھیلنے کے پیر پرستی شروع ہو جائے گی اور بقول حضرت مسیح موعود پیر زادگی کا مرض دق اور سل سے بدتر ہے۔کیونکہ ان میں رعونت اور تکبر کا مادہ ہوتا ہے اور خواہ مخواہ اپنی عظمت دکھاتے ہیں اور فقیری کا دم مارتے ہیں۔( بدر ) یہ سل اور دق کہیں احمدی قوم کو نہ چھٹ جائے“۔جواب اس کے جواب میں اخبار پیغام صلح میں سے صرف مندرجہ ذیل الفاظ کا پڑھ لینا کافی ہوگا: بظاہر ایسے امیر کا تسلیم کرنا طبع کو ناگوار گزرتا ہے۔خودسر انسان ناک بھوں چڑھاتے ہیں کہ اس میں پیر پرستی اور شخصی غلامی کا رنگ جھلکتا ہے۔مگر یہ قلت تدبر اور کوتاہ بینی کا نتیجہ ہے۔تاریخ عالم اور اقوام دنیا کی ترقی کے اسرار سے نا واقفیت ہے۔تاریخ کے اوراق ہر دور میں اس کی شہادت دیتے ہیں کہ بہت سے گروہ باوجود اپنے نقائص کے صرف ایک امیر کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔جب تک عنان ایسے امیر کے ہاتھ میں نہ ہو۔جس کے ہاتھ پر عملی طور پر تن من دھن کی قربانی کی بیعت نہ کی ہو۔مستقل اور پائندہ ترقی محال ہے۔وسوسہ نمبر ۴ کا جواب تو ان الفاظ میں مکمل طور پر آگیا ہے۔مگر اس کے علاوہ ایک زائد فائدہ بھی ان الفاظ سے حاصل ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ مرکز احمدیت سے مسلسل تمہیں سال تک الگ رہنے کے نتیجہ میں جب مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین نے یہ محسوس کیا کہ ترقی تو جماعت قادیان کر رہی ہے اور ہم لوگ اپنا مرکز الگ بنا کر ذرا بھی ترقی نہیں کر سکے۔بلکہ جو لوگ شروع شروع میں ہمارے ساتھ تھے۔وہ بھی ایک ایک کر کے جماعت قادیان کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔تو انہوں نے اپنی اس