حیاتِ نور

by Other Authors

Page 648 of 831

حیاتِ نور — Page 648

۶۴۳ بلا کر فرمایا کہ سراج دین نے جولا ہوں کا تانا خراب کر دیا ہے۔اسے اس کی سزا دو۔میں نے عرض کیا۔بہت اچھا۔جب میں دروازہ تک پہنچا تو آپ نے مجھے واپس بلالیا۔اور فرمایا کہ سراجدین یتیم لڑکا ہے۔اس کو جھٹڑ کنا نہیں۔میں نے عرض کیا۔بہت اچھا۔اور واپس آکر میں نے اسے یہ سزادی کہ آٹھ دن تک وہ روزانہ ایک صفحہ خوشخط لکھ کر مجھے دکھایا کرے۔۷۳ قیموں پر اپنے بچہ کی نسبت زیادہ خرچ کرنا جناب چوہدری صاحب موصوف ہی کا بیان ہے کہ ایک دفعہ آپ نے اپنے بڑے لڑکے میاں عبدالحی مرحوم کو بورڈنگ میں داخل کرا دیا اور مجھے لکھ دیا کہ میں غریب آدمی ہوں۔اس لئے عزیز عبدالئی کے خرچ میں حتی الوسع کفایت کرنے کی کوشش کریں۔میں نے حاضر ہو کر عرض کی کہ اگر عبدالحئی کا کھانا گھر سے آجایا کرے تو خرچ میں بہت تخفیف ہو سکتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی نوکر نہیں ہے۔اس لئے کھانا بھیجنا بہت مشکل ہے۔نیز میری بیوی اکثر بیمار رہتی ہے۔اس لئے وقت کی پابندی بھی مشکل ہے۔اس لئے بورڈنگ کے خرچ میں ہی تخفیف کریں۔" حضور نے اپنے بچہ کے متعلق کفایت شعاری کے لئے اس قدر تاکید فرمائی۔حالانکہ اس وقت بورڈنگ ہاؤس میں پانچ یا چھ یتیم ایسے تھے۔جن کا خرچ آپ اپنی گرہ سے دیتے تھے۔اور ان کے خرچ میں تخفیف مد نظر رکھنے کے لئے آپ نے کبھی بھی نہیں فرمایا تھا۔"میاں عبدالحئی کی تعلیم کی پہلی ماہ کی رپورٹ لے کر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔جس میں میں نے لکھا تھا کہ عزیز عبدالھی اس ماہ میں با قاعدہ نمازیں پڑھتا رہا ہے۔آپ نے رپورٹ پڑھ کر اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر دیا۔اور فرمایا کہ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ جب کوئی خوشخبری دے تو اسے کچھ دینا چاہئے۔نیز یہ بھی فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بڑھاپے میں لڑکے دے کر اس شرک سے بھی بچا لیا ہے کہ میں بچوں سے کوئی خدمت کی بھی امید رکھ سکوں۔نیز میرے پاس کوئی سند نہیں ہے اور جہاں تک مجھے یاد ہے۔میرے باپ دادا کے ـور