حیاتِ نور

by Other Authors

Page 646 of 831

حیاتِ نور — Page 646

نے فرمایا۔۶۴۱ ـور و منکرین اگر جنازہ پڑھیں بھی تو ہمیں کیا فائدہ؟ اگر کوئی بھی احمدی کا جنازہ نہ پڑھے۔تو فرشتے اس کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ان لوگوں کے جنازہ نہ پڑھنے کی کچھ بھی پروا نہ کرو۔اور جب ہم خود غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے۔تو ہم کب امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارا جنازہ پڑھیں۔اے خدا تعالیٰ آپ کی ضرورتوں کا خود متکفل تھا محترم مرزا سلام اللہ صاحب مستری قطب الدین صاحب بھیروی کی روایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ عیدالاضحیہ کے موقعہ پر حضرت خلیفہ امسیح الاول نے گھر سے دریافت فرمایا کہ کپڑے دھلے ہوئے ہیں؟ معلوم ہوا کہ صرف ایک پاجامہ ہے اور وہ بھی پھٹا ہوا۔آپ نے اس میں آہستہ آہستہ ازار بند ڈالنا شروع کر دیا۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب ان دنوں صدر انجمن کے سیکریٹری تھے۔انہوں نے پیغام بھیجا کہ حضور نماز عید میں دیر ہو رہی ہے۔لوگوں نے قربانیاں بھی دینی ہیں۔اس لئے جلد تشریف لائیں۔فرمایا۔تھوڑی دیر تک آتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد پھر آدمی آیا۔حضور نے اسے پھر پہلے کا سا جواب دیا۔اتنے میں ایک آدمی نے آکر دروازہ پر دستک دی۔آپ نے ملازم کو فرمایا۔دیکھو باہر کون ہے؟ آنے والے نے کہا۔میں وزیر آباد سے آیا ہوں۔حضرت سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔حضور نے اسے اندر بلالیا۔عرض کی حضور میں وزیر آباد کا باشندہ ہوں۔حضور کے، اماں جی کے اور بچوں کے کپڑے لایا ہوں۔رات یکہ نہیں ملا تھا۔اس لئے بٹالہ ٹھہرا رہا۔اب بھی پیدل آیا ہوں“۔ایسا ہی ایک واقعہ محترم صوفی عطا محمد صاحب نے بھی بیان فرمایا کہ ایک دفعہ عید کی صبح کو حضرت مولوی صاحب نے غربا میں کپڑے تقسیم کئے حتی کہ اپنے استعمال کے کپڑے بھی دے دیئے۔گھر والوں نے عرض کی کہ آپ عید کیسے پڑھیں گے۔فرمایا۔خدا تعالیٰ خود میرا انتظام کر دے گا۔یہاں تک کہ