حیاتِ نور — Page 645
۶۴۰ اس کے بعد آپ نے انہیں لکھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سنیوں ،شیعوں اور خوارج کی کتابیں نہیں پڑھیں۔کیا کوئی ان میں ایسا ریفار مرگزرا ہے۔جس نے پابند صوم و صلوۃ اور حج وزکوٰۃ جماعت تیار کی ہو۔ہماری جماعت کو دیکھئے۔چار لاکھ سے زیادہ ہے۔اور اب بلاد یورپ، امریکہ، چین، جاپان اور آسٹریلیا میں بھی پہنچ چکی ہے۔آپ دیکھیں گے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر اندر ہی اللہ تعالیٰ ہمیں کس قدر کامیابیوں سے نوازتا ہے۔کیا یہ حضرت مرزا صاحب کا کمال نہیں ؟ کوئی ہے جو تائید ایزدی میں آپ کے ساتھ مقابلہ کر سکے؟ وغیرہ وغیرہ کے منکرین کی جنازہ خوانی ضلع گجرات میں ایک احمدی دوست فوت ہوئے۔چونکہ وہاں جماعت کی تعداد بہت کم تھی۔اس لئے صرف چند آدمی قبر تک میت کے ساتھ گئے۔منکرین نے اس پر بہت بغلیں بجائیں۔اور خوشی کا اظہار کیا۔جس پر جناب ایڈیٹر صاحب بدر نے لکھا: افسوس ہے کہ اس خوشی کے اظہار کے وقت غیر احمد یوں نے اپنی پوزیشن کو نہیں سمجھا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ احمدی لوگ ان کی اس حرکت سے ناراض اور خفیف ہو سکتے ہیں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔جنازہ میت کے واسطے ایک دعا ہے۔اور انسان ایسے لوگوں کی دعا اپنے حق میں چاہتا ہے۔جن کے متعلق وہ قبولیت دعا کا حسن ظن رکھتا ہو۔اور جن کو دینی رنگ میں بزرگ اور نیکو کا سمجھتا ہو۔لیکن اگر حضرت مرزا صاحب مسیح موعود ہیں اور یقینا ہیں۔تو ان کے منکر یہود ہیں۔اور یقینا ہیں۔یہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے۔حضرت مہدی فرماتے ہیں۔مردم نااہل گویندم که چون عیسی شدی بشنو از من این جواب شاں کہ اے قوم حسود چون شما را شد یہود اندر کتاب پاک نام ار مرا کرد است از پہر ہوں غرض ہمیں نہ تمہارے جنازوں کے پڑھنے کی خواہش ہے اور نہ پروا ہے۔ایک دفعہ ایسا ہی ایک واقعہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں ذکر ہوا تھا۔حضور