حیاتِ نور

by Other Authors

Page 644 of 831

حیاتِ نور — Page 644

۱۳۹ دو عربوں کا قادیان میں ورود اس ہفتہ میں دو عرب بھی قادیان میں تشریف لائے۔ایک نے خوش الحانی سے حضرت کو قرآن شریف سنایا۔جس سے حضور خوش ہوئے۔اور اسے نصیحت کی کہ ایک جگہ قیام کرنا چاہئے۔شہر بشہر پھرنے سے کوئی فائدہ نہیں“۔19 ایک مشہور حکیم کے خط کا جواب ایک مشہور حکیم صاحب نے آپ کی خدمت میں ایک خط لکھا۔جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں کچھ استفسارات تھے۔آپ نے انہیں جو ابا لکھا کہ ہندوستان کے ایک مشہور ومعروف اور نامور مولوی صاحب نے حضرت صاحب سے ملاقات کی اور عرض کی کہ اگر حضور مسیح و مہدی کا دعوی نہ فرمائین اور امام مجدد مصلح اور ریفارمر وغیرہ کی پوزیشن اختیار کر لیں تو ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔حضور نے فرمایا۔مولوی صاحب! اگر میں کسی منصوبہ سے کام کرتا تو بیشک ایسا ہی کرتا۔مگر میں تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنے والا ہوں۔اس کے بعد آپ نے مستفسر حکیم صاحب کو مخاطب کر کے لکھا کہ حکیم صاحب! میں نے حضرت سید محمد صاحب مجتہد العصر لکھنؤ ، مولوی محمد تقی صاحب اور سید حامد حسین صاحب کو دیکھا ہے۔بڑے لائق لوگ تھے۔مگر عامل بالقرآن مخلصین کی جماعت تیار نہ کر سکے۔آپ بھی ماشاء اللہ عالم فاضل ہیں اور طبیب بھی ہیں۔اسلام کا درد بھی آپ کے دل میں ہے۔مگر فرمائیے کس قدر جمیعت آپ کے ماتحت کام کرتی ہے؟ ادھر ہمیں دیکھو! ہمارے ماتحت اللہ تعالیٰ کے فضل سے شیعہ، خوارج، نیچری، وہابی ، مقلد ، غیر مقلد، پیر پرست ، گدی نشین، علماء اور عوام بھی قسم کے لوگ کام کرتے ہیں۔ہم ہرگز اخفا اور چرب زبانی سے کام نہیں لیتے۔خاں صاحب نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو تشیع میں غلو تھا۔حضرت صاحب سے ملے تو آپ نے فرمایا: ”میاں اترا اور تعزیہ پرستی دو امر تشیع کے ہمیں نا پسند ہیں۔باقی جو چاہو۔کرو۔اس پر وہ درہم برہم ہوئے۔مگر آخر جماعت میں داخل ہو گئے۔ہندوؤں مسیحیوں کو ٹو میں گن نہیں سکتا ہوں کہ کس قدر ہماری جماعت میں آئے۔