حیاتِ نور

by Other Authors

Page 618 of 831

حیاتِ نور — Page 618

پیرائے میں یہ خواہش ظاہر فرمائی کہ میں کم از کم ایک ہفتہ قادیان میں رہوں۔اگر چہ بوجوہ چند در چند میں ان کے ارشاد کی تعمیل سے قاصر رہا۔مگر صاحبزادہ صاحب کی اس بلند نظرانہ مہربانی و شفقت کا از حد مشکور ہوں۔صاحبزادہ صاحب کا زہد و تقاء اور ان کی وسعت خیالا نہ سادگی ہمیشہ مجھے یادر ہے گی۔مولوی محمد علی صاحب ایڈیٹر ریویو آف ریلیجیز سے ملنے کی مجھے نہایت ہی تمنا تھی۔مگر افسوس بڑی مسجد میں باوجود ان سے مصافحہ کرنے کے انہوں نے یہ دریافت کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی کہ ایک مسافر مسلمان جو ان سے بڑھ کر نهایت گرمجوشی سے مصافحہ کر رہا ہے۔وہ کون ہے؟ اس لئے صرف ان کی زیارت ہی نصیب ہوئی اور مکالمے کی عزت نصیب نہ ہوئی۔حضرت اکمل صاحب سے کافی ملاقات ہوئی اور انہوں نے جو کچھ مہربانی " نہایت فراخدلی سے میری مسافرانہ حالت پر فرمائی۔اس کا میں مشکور ہوں۔علاوہ اس کے میں نے قادیان کی احمدی جماعت کی اس جدوجہد کو دودن میں بکمال غور و خوض دیکھا۔جو وہ مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول کے قیام کے ذریعہ دنیا میں حقیقی اسلامی قوم پیدا کرنے کی مدعی بن کر کر رہی ہے۔اس اپنے عملی پروگرام کو پورا کرنے کی مستعدی میں احمدی جماعت قابل مبارک بادی کے ہے۔کیونکہ جہاں ہائی سکول میں مسلمان طالب علموں کو مروجہ دنیاوی علوم کی تعلیم دی جا رہی ہے۔وہاں نہایت ہی اعلیٰ پیمانے پر قرآن مجید کی مفسرانہ تعلیم کے ذریعے حقیقی فلسفہ اسلام سے ان کے دل و دماغ معمور کئے جار ہے ہیں۔علاوہ اپنے لائق ماسٹروں اور ٹیوٹروں سے اسلامی تعلیم و تہذیب کے سیکھنے کے ہر ایک ہائی سکول کا طالب علم نماز عصر کے بعد نماز شام تک مولوی نورالدین صاحب کے آگے بڑی مسجد میں ان کے باقاعدہ درس قرآن شریف کے وقت زانوئے شاگردی تہبہ کرنے کو پابند کیا گیا ہے اور ہائی سکول قادیان کے طالب علم کو روزانہ ذہن نشین کرایا جاتا ہے کہ جس اسلام کے ارکان مذہبی کی ادائیگی تم سے حکما سکول میں کرائی جاتی ہے۔وہ فطر نا تم پر قوانین قدرت نے زندگی کے باقی لوازمات سے بڑھ کر بطور ایک زبردست واہم فرض کے عائد کر دیئے ہیں۔یہ ور