حیاتِ نور

by Other Authors

Page 619 of 831

حیاتِ نور — Page 619

ـور ۶۱۴ نہیں کہ علی گڑھ کالج کے طلباء کی طرح ان سے نماز تو جبر اپڑھائی جائے۔اور نماز کے پڑھنے کی ضرورت فلسفۂ فطرت کی رو سے انہیں نہ سمجھائی جائے۔جس سے علی گڑھ کے طلباء کی طرح وہ نماز کو ایک زبر دستی بیگار تصور کرتے ہوئے اسلام کے متعلق نفرت کا بیج دل میں بونے پر مجبور ہوں۔کیونکہ ڈارون اور بیکن کے فلسفے کو پڑھنے والے طالب علموں سے مان نہ مان میں تیرا مہمان کے اصول پر انگریزی اسلامی سکولوں و کالجوں پر قادیان کے ہائی سکول کو اسلامی پہلو سے وہ برتری حاصل ہے کہ جس کی گرد کو باقی اسلامی، انگریزی سکول و کالج نہیں پہنچ سکتے۔مدرسہ احمدیہ چونکہ خالص مذہبی تعلیم کا مدرسہ ہے۔اس لئے میں ہندوستان کی باقی مذہبی درس گاہوں پر اسے چنداں فوقیت نہیں دے سکتا۔مگر میرے خیال میں فلسفہ قرآن کے سمجھنے میں اس کے طالب علم باقی درسگاہوں سے بہت فائدہ میں ہیں۔جبکہ انہیں خاص طور پر اس کے متعلق بہت سے عمدہ ذرائع حاصل ہیں۔جو ہندوستان کی دیگر مذہبی درسگاہوں کے طلباء کو حاصل نہ ہوں گے۔عام طور پر قادیان کی احمدی جماعت کے افراد کو دیکھا گیا تو انفرادی طور پر ہر ایک کو توحید کے نشے میں سرشار پایا گیا۔اور قرآن مجید کے متعلق جس قدر صادقانہ محبت اس جماعت میں میں نے دیکھی۔کہیں نہیں دیکھی۔صبح کی نماز منہ اندھیرے چھوٹی مسجد میں پڑھنے کے بعد جو میں نے گشت کی۔تو تمام احمد یوں کو میں نے بلا تمیز بوڑھے و بچے اور نوجوانوں کے لیمپ کے آگے قرآن مجید پڑھتے دیکھا۔دونوں مسجدوں میں دو بڑے گروہوں اور سکول کے بورڈنگ میں سینکڑوں لڑکوں کی قرآن خوانی کا مؤشر نظارہ مجھے عمر بھر یا در ہے گا۔حتی کہ احمدی تاجروں کا صبح سویرے اپنی اپنی دکانوں اور احمدی مسافر مقیم مسافر خانے کی قرآن خوانی بھی ایک نہایت پاکیزه سین پیش کر رہی تھی۔گویا صبح کو مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ قدسیوں کے گروہ در گروہ آسمان سے اتر کر قرآن مجید کی تلاوت کر کے بنی نوع انسان پر قرآن مجید کی عظمت کا سکہ بٹھانے آئے ہیں۔غرض احمدی قادیان میں مجھے قرآن ہی قرآن نظر آیا۔