حیاتِ نور — Page 617
۶۱۲ میں قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر کے ذریعے ہر وقت ان کے بے ریا سینے سے ابل ابل کر تشنگان معرفتِ توحید کو فیضیاب کر رہا ہے اگر حقیقی اسلام قرآن مجید ہے تو قرآن مجید کی صادقانه محبت جیسی کہ مولوی صاحب موصوف میں میں نے دیکھی ہے اور کسی شخص میں نہیں دیکھی۔یہ نہیں کہ وہ تقلیدا ایسا کرنے پر مجبور ہے نہیں بلکہ وہ ایک زبر دست فیلسوف انسان ہے اور نہایت ہی زبردست فلسفیانہ تنقید کے ذریعہ قرآن مجید کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہے۔کیونکہ جس قسم کی زبر دست فلسفیانہ تفسیر قرآن مجید کی میں نے ان سے درس قرآن مجید کے موقعہ پر سنی ہے غالبا دنیا میں چند آدمی ایسا کرنے کی اہلیت اس وقت رکھتے ہوں گے۔مجھے زیادہ تر حیرت اس بات کی ہوئی کہ ایک اسی سالہ بوڑھا آدمی صبح سویرے سے لے کر شام تک جس طرح لگا تار سارا دن کام کرتا رہتا ہے۔وہ متحدہ طور پر آج کل کے تندرست و قوی ہیکل دو تین نوجوانوں سے بھی ہونا مشکل ہے۔میں کام کرنے کے متعلق مولوی صاحب کو غیر معمولی طاقت کا انسان تو نہیں سمجھتا لیکن اپنے فرض کی ادائیگی میں اسے خیر القرون کے قدسی صفت صحابہ کا پورا پیرو کہنے میں اگر منافقت کروں تو یقیناً میں صداقت کا خون کرنے والا ہو جاؤں۔مولوی صاحب کے تمام حرکات وسکنات میں صحا بہ علیہم السلام کی سادگی اور بے تکلفی کی شان پائی جاتی ہے۔اس نے نہ اپنے لئے کوئی تمیزی نشان مجلس میں قائم رکھا ہے۔نہ کسی امیر و غریب کے لئے اور نہ تسلیم یا کورنش جیسی پیر پرستی کی لعنت کو وہاں جگہ دی گئی ہے۔صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب سے بھی مل کر ہمیں ازحد مسرت ہوئی۔صاحبزادہ صاحب نہایت خلیق اور سادگی پسند انسان میں علاوہ خوش خلقی کے کہیں بڑی حد تک معاملہ فہم و مدبر بھی ہیں۔علاوہ دیگر باتوں کے جو گفتگو صاحبزادہ صاحب موصوف کے اور میرے درمیان ہندوستان کے مستقبل پر ہوئی اس کے متعلق صاحبزادہ صاحب نے جو رائے اقوام عالم کے زمانہ ماضی کے واقعات کی بناء پر ظاہر فرمائی۔وہ نہایت ہی زبر دست مدیرانہ پہلو لئے ہوئے تھی۔صاحبزادہ صاحب نے مجھ سے از راہ نوازش بہت کچھ ہی مخلصانہ