حیاتِ نور

by Other Authors

Page 616 of 831

حیاتِ نور — Page 616

لئے اس کا کام بھی کرتے رہے اور فارغ اوقات میں اشاعت اسلام کا فریضہ بھی ادا فرماتے ر۔پیدائش صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب، ۲۸ فروری ۱۹۱۳ء ۲۸ فروری ۱۹۱۳ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام مظفر احمد " رکھا گیا۔فالحمد للہ علی ذالک ایک معزز غیر احمدی کی اہل قادیان کے متعلق رائے ، مارچ ۱۹۱۳ء مارچ 1913ء میں امرتسر کے ایک معزز غیر احمدی میاں محمد اسلم صاحب قادیان تشریف لائے۔انہوں نے جو نقشہ اس وقت کے قادیان کا کھینچا ہے۔اس کی ایک جھلک ملا حظہ ہو۔وہ لکھتے ہیں: عالم اسلام کی خطرناک تباہ انگیز مایوسیوں نے مجھے اس اصول پر قادیان جانے پر مجبور کیا کہ احمدی جماعت جو بہت عرصہ سے یہ دعوی کر رہی ہے کہ وہ دنیا کو تحریری و تقریری جنگ سے مغلوب کر کے حلقہ بگوش اسلام بنائے گی آیا وہ ایسا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے؟ اس تصویر کی زبر دست کشش نے آخر کار گزشتہ ہفتہ مجھے امرتسر سے کھینچ کر قادیان میں لے جا کر کھڑا کر دیا۔جہاں میں اور میرا رفیق مولوی ضیاء اللہ صاحب بٹالہ کے اسٹیشن سے بذریعہ یکہ قادیان پہنچے اور مفتی محمد صادق صاحب کے مہمان بنے۔مفتی محمد صادق صاحب کی مشفقانہ مہمان نوازی کے صدقے ہمیں قادیان میں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی۔وہاں ان کے ذریعے مولوی نورالدین صاحب اور صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب سے بھی ملاقات کی عزت حاصل کرنے کا پورا موقعہ ملا۔مفتی صاحب کے ہم از حد مشکور ہیں۔مولوی نورالدین صاحب نے جو بوجہ مرزا صاحب کے خلیفہ ہونے کے اس وقت احمدی جماعت کے مسلمہ پیشوا ہیں۔جہاں تک میں نے دو دن ان کی مجالس وعظ و درس قرآن شریف میں رہ کر ان کے کام کے متعلق غور کیا۔مجھے وہ نہایت پاکیزہ اور محض خالصتا اللہ کے اصول پر نظر آیا۔کیونکہ مولوی صاحب کا طرز عمل قطعاً ریا و منافقت سے پاک ہے اور ان کے آئینہ دل میں صداقت اسلام کا ایک ایسا زبردست جوش ہے جو معرفت توحید کے شفاف چشمے کی وضع