حیاتِ نور

by Other Authors

Page 552 of 831

حیاتِ نور — Page 552

میں جناب مولوی محمد علی صاحب کی زندگی میں دو مرتبہ الفضل میں بھی شائع کروا چکا ہوں۔میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفاً کہتا ہوں کہ میرا یہ بیان بالکل صحیح اور واقعہ کے عین مطابق العبد خواجہ محمد شریف بقلم خود ۶۶۳-۲۶ ہے۔متعلق۔محترم خواجہ صاحب کا یہ بیان الفضل ۷ جون ۱۹۳۳ء صفحہ " پر بھی شائع ہو چکا ہے۔سوال کیا حضرت خلیفتہ اسی اول کو مولوی صاحب کے ترجمۃ القرآن سے مت بشارت نہیں ملی کہ ترجمہ مقبول ہوا۔انا جواب اس بشارت سے غیر مبائعین کا اشارہ سید عابد علی شاہ صاحب کے اس الہام کی طرف ہے۔جو انہوں نے حضرت خلیفہ المسح الاول کی وفات سے چند روز قبل حضور کو سنایا تھا۔کہ حضرت خلیفتہ اسی کو ختم قرآن مبارک ہو۔اس الہام کو غیر مبالعین حضرات ہمیشہ جناب مولوی محمد علی صاحب کے ترجمہ قرآن پر چسپاں کرتے ہیں۔حالانکہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اس وقت الہام سنکر جہاں یہ فرمایا تھا کہ شاید مولوی محمد علی صاحب والا قرآن مراد ہو۔پھر فرمایا "منظور ہو گیا ہو۔وہاں یہ بھی فرمایا کہ عبد ائی نے بھی دینی علوم کے کل مبادی علوم ختم کر لئے ہیں۔یہ بھی بڑی خوشخبری ہے"۔پھر فرمایا بڑا فضل ہوا۔بڑا فضل ہوا۔۱۲ اب یہ سب احتمالات ہیں۔مہم کو جو الہام ہوا ہے۔اس کے الفاظ سے تو صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح نے اپنی زندگی میں قرآن کریم جس محبت اور وارفتگی کے عالم میں پڑھا اور دنیا کو پڑھایا اب چونکہ حضور کی وفات کا وقت قریب آ گیا ہے اس لئے ایک شخص کی معرفت آپ کو یہ بشارت دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس خدمت کو منظور فرما لیا ہے۔مولوی محمد علی صاحب کا نہ یہاں کوئی ذکر ہے اور نہ ان کے ساتھ بظاہر کوئی تعلق معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ حضور کی زندگی میں ان کا ترجمہ قرآن ختم نہیں ہو سکا تھا۔چنانچہ مصنفین مجاہد کبیر لکھتے ہیں: انگریزی ترجمہ قرآن کے ۲۶ پاروں تک ترجمہ اور تفسیری نوٹ مولا نار نورالدین صاحب کو سنائے جاچکے تھے۔بقایا چار پاروں کا کام باقی تھا۔۱۳ آگے چل کر لکھا ہے: ' آخر کا ر سات سال کی محنت کے بعد اپریل 1913ء میں آپ نے ترجمہ اور تفسیر کے کام کو ختم کیا۔مؤرخہ ۲۸۔اپریل کے خطبہ جمعہ میں آپ نے یہ خوش خبری جماعت کو سنائی۔سورۃ فاتحہ، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر فرمایا: