حیاتِ نور — Page 551
۵۴۶ سے اخویم خواجہ محمد شریف صاحب تشریف لائے۔باتوں باتوں میں مولا نا محمد علی صاحب کے ترجمہ قرآن کریم انگریزی کا ذکر آ گیا۔محترم خواجہ صاحب نے فرمایا کہ خلافت ثانیہ کے ابتداء میں میرے والد محترم حضرت شیخ صاحبدین صاحب ڈھینگرا جو بہت پرانے صحابی ہیں اور جنہوں نے ۱۸۹۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔مولانا محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ کے ذاتی دوست ہونے کی وجہ سے ان کی طرف جھکے ہوئے تھے اور مجھے بھی کہا کرتے تھے کہ ذرا میرے ساتھ لاہور چل کر مولا نا محمد علی صاحب سے ملاقات تو کرو۔ایک دن اتفاق سے ہم دونوں لاہور میں اکٹھے ہو گئے۔والد صاحب محترم نے اصرار سے فرمایا کہ میرے ساتھ احمد یہ بلڈنکس میں چلو۔میں نے کہا۔قبلہ والد صاحب ! مولا نا محد علی صاحب کے پاس کیسے جا سکتا ہوں۔جن میں اتنی اخلاقی جرات بھی نہیں کہ وہ کسی شخص کی چٹھی کا جواب ہی دیدیں۔فرمانے لگے کس چٹھی کا مولوی صاحب نے جواب نہیں دیا؟ میں نے کہا۔میں ترجمہ قرآن کریم انگریزی کی بابت انہیں تین خط اس مضمون کے لکھ چکا ہوں کہ آپ حلفا یہ بیان کریں کہ کیا آپ نے اس ترجمہ میں کوئی تبدیلی تو نہیں کی۔جو آپ حضرت خلیفہ اسح الاول کو سنا چکے ہیں؟ مگر مولوی صاحب محترم نے کوئی جواب نہیں دیا۔والد صاحب محترم نے فرمایا۔ابھی میرے ساتھ چلو میں جواب لے دیتا ہوں۔میں نے کہا۔اگر آپ جواب لے دیں تو میں ساتھ چلنے کو تیار ہوں۔چنانچہ ہم نے احمد یہ بلڈنکس میں جا کر جناب مولوی محمد علی صاحب سے ملاقات کی۔والد صاحب نے بیٹھتے ہی مولوی صاحب سے کہا کہ مولوی صاحب یہ میرا لڑکا محمد شریف کہتا ہے کہ میں نے تین خط مولوی صاحب کو لکھے۔مگر مولوی صاحب نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔یہ کیا بات ہے؟ مولوی صاحب نے اس وقت میرے تینوں خطوط اپنی میز کے ایک کونے سے نکالے اور والد صاحب کے سامنے رکھ دیئے اور فرمایا کہ لو یہ ان کے خطوط ہیں اور ان کا جواب یہ ہے کہ میں ترجمہ قرآن کریم کا مصنف ہوں۔مجھے ہر مرحلہ پر اس میں ترمیم یا رد و بدل کرنے کا پورا پورا اختیار حاصل ہے۔والد صاحب نے فرمایا پھر آپ نے اسے جواب کیوں نہ دیا۔مولوی صاحب اس سوال کو ٹال گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اس قسم کی کوئی تحریر میرے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتے تھے۔اس پر میں نے کہا کہ مولوی صاحب ! پھر ہمیں اس قسم کے ترجمے کی کوئی ضرورت نہیں۔مولوی صاحب کے اس جواب کا والد صاحب پر بھی کافی اثر پڑا۔اور مجھے بھی ان کو تبلیغ کرنے کا خاصہ موقعہ مل گیا۔اس کے بعد جلد ہی والد صاحب ان سے بدظن ہو گئے۔اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی بیعت کر لی۔فالحمد للہ علی ذلک۔اس واقعہ کو