حیاتِ نور — Page 553
ـور ۵۴۸ آج میرے لئے خوشی کا دن ہے۔کئی سال سے میں ایک کام پر لگا ہوا تھا۔اور وہ قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ تھا۔آج اس کو اللہ کے فضل سے میں نے ختم L کر لیا ہے۔۱۴ اب رہ گیا اردوترجمہ اور تفسیر سو اس کے متعلق لکھا ہے کہ انگریزی ترجمہ و تفسیر کی اشاعت کے فوراً بعد ہی مولا نا محمد علی صاحب نے ردو ترجمہ اور تفسیر قرآن کے کام کو با قاعدگی سے شروع کیا۔اور ۱۹۱۸ء سے لیکر ۱۹۲۳ ء تک کے پانچ چھ سال کا وہ زمانہ ہے جب آپ نے اپنی وہ عظیم الشان اردو تفسیر قرآن تصنیف فرمائی جو بیان القرآن" کے نام سے تین جلدوں میں چھپی دار پس حضرت خلیفہ المسیح کی زندگی میں مولانا محمد علی صاحب نہ تو انگریزی ترجمہ القرآن مختم کر سکے اور نہ اردو۔پھر یہ الہام ان پر کیسے چسپاں ہوسکتا ہے؟ یقینا اس الہام کے مصداق جیسا کہ الفاظ الہام سے ظاہر ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح ہی ہو سکتے ہیں۔نہ کہ مولوی محمد علی صاحب! سوال: ایک حوالہ غیر مبایعین یہ پیش کیا کرتے ہیں کہ ۲۲ فروری ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفہ اسح اول نے مولوی محمد علی صاحب کے متعلق فرمایا۔"مجھے کو بڑا پیارا ہے" جواب: "پیغام صلح" کے الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔کہ " پیارا " سے مراد قرآن کریم ہے۔نہ کہ مولوی محمد علی صاحب۔کیونکہ صاف لکھا ہے کہ ( پنجابی میں ) فرمایا: سر آنکھوں پر آئیں۔قرآن سنائیں۔کوئی میرا دماغ تھکتا ہے؟ “۔اپنے پلنگ کی طرف اشارہ کر کے مولوی محمد علی صاحب کو فرمایا۔” میرے پاس آ جائیں‘ فرمایا ”مجھے کو بڑا پیارا ہے۔1 یقیناً یہاں اشارہ قرآن کریم کی طرف ہی ہے۔جس کے متعلق فرمایا کہ قرآن سننے سے میرا دماغ نہیں تھکتا۔کیونکہ قرآن مجھے بہت پیارا ہے۔بات یہ ہے کہ حضرت کا یہ عام طریق تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے لئے عموماً " پیارا کا لفظ استعمال فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ الحکم میں ہے کہ ۲۷ فروری ۱ء کو جب آپ شہر سے تبدیلی آب و ہوا کی خاطر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی کی طرف تشریف لے جا رہے تھے تو جب راستہ میں بورڈنگ ہاؤس کے بچوں نے آپ کو اسلام علیکم یا امیر المومنین کہا تو کوٹھی پہنچ کر مولوی محمدعلی صاحب