حیاتِ نور

by Other Authors

Page 536 of 831

حیاتِ نور — Page 536

۵۳۱ ایک رحمت اور انعام ہے۔اسکی قدر کرو۔خلفاء کو خود خدا مقرر کرتا ہے کوئی انجمن یا جماعت مقرر نہیں کرتی۔لہذا انہیں معزول کرنے کا خیال بھی دلوں میں نہ لایا کرو۔اور ان علمی بحثوں کو چھوڑ کر متقی بن جاؤ اور اپنی تو جہات کا رخ اصلاح نفس اور تبلیغ اسلام کی طرف پھیر لو وغیرہ۔مگر افسوس کہ ان لوگوں کے دلوں میں جو شکوک و شبہات کی بیماری پیدا ہو چکی تھی۔وہ بجائے گھٹنے کے دن بدن ترقی ہی کرتی گئی۔اقتدار حاصل کرنے کی ہوس اس طرح ان کے دل و دماغ پر سوار ہو چکی تھی کہ مٹائے نہ ٹتی تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح اول سے انہیں اس لئے پر خاش تھی کہ آپ نے اپنی بیماری کے ایام میں خلافت کی وصیت سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے حق میں کر دی تھی۔اور سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ سے اس لئے بغض تھا کہ ان کے نزدیک آپ خلافت کے حصول کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے تھے (نعوذ باللہ )۔اور آپ کے خاندان کے باقی نمبر اس لئے مبغوض تھے کہ آپ کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔حضرت خلیفہ امسح اول کے دل میں سید نا محمود ایدہ اللہ کا جو ادب و احترام تھا۔اور جس کی وجہ سے آپ نے انہیں صدر انجمن کا صدر مقرر کیا ہوا تھا۔اپنی بیماری اور کمزوری کے ایام میں آپ ہی کے سپر دنمازوں کی امامت تھی۔خطبات جمعہ بھی آپ ہی پڑھاتے تھے۔یہ ساری باتیں ایسی تھیں۔جوان لوگوں کو ہر گز نہ بھاتی تھیں۔مگر مجبور تھے کہ کچھ نہ کر سکتے تھے۔یہاں ہم محترم مولانا ظہور حسین صاحب مجاہد بخارا کا ایک بیان درج کرتے ہیں۔جس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ یہ لوگ سید نا محمود ایدہ اللہ سے کس قدر نقار رکھتے تھے۔جناب مولوی صاحب فرماتے ہیں: " جب ہم مبلغین کلاس میں حضرت حافظ روشن علی صاحب سے پڑھا کرتے تھے۔تو ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ ایک روز مولوی محمد علی صاحب نے مجھے کہا کہ حافظ صاحب! آپ حضرت خلیفۃالمسیح کے خاص شاگرد ہونے کی وجہ سے بے تکلفی سے بات کر لیا کرتے ہیں۔ذرا آپ حضور سے پوچھیں تو سہی کہ کیا وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء مثل حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب ، حضرت قاضی امیر حسین صاحب وغیرہ کی موجودگی کے باوجود حضور نے امام الصلوۃ اور خطیب میاں محمود احمد صاحب کو مقرر فرمایا ہوا ہے۔جو بالکل نوعمر ہیں۔مگر ساتھ ہی تاکید کی کہ میرا نام نہ لینا۔حضرت حافظ صاحب نے فرمایا کہ بہت اچھا۔میں آپ کا نام لئے بغیر ہی سوال کرونگا۔چنانچہ آپ نے جب حضرت خلیفہ المسح الاول کی