حیاتِ نور

by Other Authors

Page 535 of 831

حیاتِ نور — Page 535

ات نور ۵۳۰ خلیفہ اول یوں تو بڑے مخیر تھے۔مگر طبیعت کا رجحان ہے۔جو بعض دفعہ کسی خاص پہلو کی طرف ہو جاتا ہے"۔آپ نے فرمایا: میں تمہاری بیٹی کی شادی کے لئے وہ سارا سامان تمہیں دینے کے لئے تیار ہوں۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کو دیا تھا۔وہ یہ سنتے ہی بے اختیار کہنے لگا۔آپ میری ناک کاٹنا چاہتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کیا تمہاری ناک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک سے بھی بڑی ہے۔تمہاری عزت تو سید ہونے میں ہے۔پھر اگر اسقدر جہیز دینے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک نہیں ہوئی۔تو تمہاری کس طرح ہو سکتی ہے۔وے ایک اور واقعہ ایسا ہی ایک واقعہ بابا قادر بخش صاحب در ولیش مسجد احمد یہ لاہور نے بیان کیا کہ حضرت میاں عبد العزیز صاحب المعروف مغل بیان فرمایا کرتے تھے کہ حضرت خلیفہ المسیح اول کی خدمت میں ایک مولوی صاحب حاضر ہوئے۔زمیندار بھی تھے۔چہرہ پر گھبراہٹ طاری تھی۔حضرت نے دریافت فرمایا۔کیا بات ہے؟ عرض کی۔حضور ! لڑکیاں جوان ہیں۔شادی کرنے کے لئے پیسے نہیں۔فرمایا آپ نے لڑکے پسند کئے ہیں ؟ عرض کیا۔ہاں حضور ! فرمایا۔انہوں نے منظور کیا ہے؟ عرض کیا۔جی حضور! فرمایا۔جب آپ نے لڑکے پسند کر لئے۔اور انہوں نے لڑکیوں کا رشتہ لینا منظور کر لیا۔تو بتاؤ۔پیسے کتنے لگے؟ پھر فرمایا لڑ کے پر تو کچھ بوجھ ہوتا ہے حق مہر کا۔مگر لڑکی والے پر تو قطعا کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔اس کے بعد ہم ان جھگڑوں کا ذکر کرتے ہیں۔جو جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور جناب مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خلافت کے شروع میں ہی کھڑے کر دیئے تھے۔یعنی خلافت اور انجمن کا جھگڑا، پرانے نمبروں کی خلیفہ کی بیعت کرنا ضروری نہیں یا خلیفہ کو معزول کیا جا سکتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔حضرت خلیفتہ المسح جماعت کی ترقی سے متعلق سخت متفکر رہتے تھے۔اور ہر وقت حضور جماعت کو سمجھاتے رہتے تھے کہ اتفاق اور اتحاد کو ہر چیز پر مقدم مجھو۔خلافت