حیاتِ نور

by Other Authors

Page 537 of 831

حیاتِ نور — Page 537

ـور ۵۳۲ خدمت میں یہ سوال کیا تو آپ نے فرمایا۔کہ حافظ صاحب! قرآن شریف میں تو یہی لکھا ہے کہ اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ الْقَاكُمْ - ^ آپ مجھے ساری جماعت میں میاں محمود احمد جیسا ایک تو متقی بتا دیں۔پھر اس کے بعد حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا کہ کیا میں مولوی محمد علی صاحب کو کہوں کہ وہ امام الصلوۃ ہوا کریں اور خطبہ پڑھا کریں؟ حضرت حافظ صاحب نے فرمایا کہ میں نے مولوی صاحب کا نام قطعا نہیں لیا تھا۔بہر حال ان لوگوں نے جب دیکھا کہ حضرت خلیفہ المسیح ان کی باتوں میں نہیں آتے۔تو انہوں نے کچھ سوچ کر آپ کے خلاف اموال سلسلہ میں ناجائز تصرف کا الزام عائد کیا۔مگر آپ کی ڈانٹ ڈپٹ سے بظاہر دب گئے مگر دلوں میں بغض و کینہ ترقی ہی کرتا گیا۔حضرت حسن ظنی سے کام لیتے تھے۔اس لئے بعض اوقات جب بظاہر معالمہ دب جاتا تھا اور یہ لوگ آپ کے رعب اور جلال کی تاب نہ لا کر معافی بھی مانگ لیتے تھے۔تو اس کے بعد اگر کوئی شخص ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتا۔تو آپ اسے جھاڑ بھی دیا کرتے تھے اور کبھی کبھار ان لوگوں کے اچھے کاموں کو بیان کر کے ان کی تعریف بھی فرما دیا کرتے تھے۔جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہوا کرتا تھا کہ شاید یہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔مگر افسوس که سے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔آخر کار آپ کی وفات کے بعد ان لوگوں نے مرکز سلسلہ کو چھوڑ کر لاہور میں اپنا الگ مرکز قائم کر لیا۔اور اتحاد اور اتفاق کا وعظ جو حضرت خلیفہ المسیح اول اکثر فرمایا کرتے تھے۔اور بڑے درد سے فرمایا کرتے تھے۔اس کی ان لوگوں نے ذرہ بھر قدر نہ کی۔خلافت اور انجمن کی بحث میں ان لوگوں کا جو موقف تھا۔اس سے انہوں نے سرمو انحراف نہیں کیا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر کو ایک فوری اثر اور تصرفات الہیہ کی وجہ سے ان لوگوں نے بالا تفاق حضرت خلیفہ امسح اول کی بیعت کر لی تھی۔لیکن دل سے انہوں نے آپ کو کبھی بھی خلیفہ تسلیم نہیں کیا۔غیر مبائعین کے بعض سوالات اور ان کے جوابات اس مختصر سے نوٹ کے بعد ذیل میں چند ایسی خلاف واقعہ باتوں کا جواب دیا جاتا ہے۔جو عموماً ان لوگوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔سوال "حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی وفات کے وقت آپ (حضرت خلیفہ اسیح الاول - ناقل ) کا وجود ایسا تھا۔جس پر تمام جماعت کو اتفاق تھا کہ حضرت صاحب