حیاتِ نور — Page 534
۵۲۹ بعض وقت ہم بیچ دیتے ہیں۔گو بہت ہی کم موقعہ ملتا ہے۔مجھے یہاں شادیاں کرانی پڑتی ہیں۔اور وہ مسکین ہوتے ہیں۔ابھی آٹھ دس نکاح ان دنوں میں ہوئے ہیں اور بجز میری ایک نواسی کے سب مسکین تھے۔ان کو کپڑے اور مختصر سے زیور دینے پڑتے ہیں ایسے اموال سے جو مساکین کے لئے آتے ہیں۔اس قسم کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔میں یہ واقعات اپنی برات کے لئے نہیں کہتا۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں تمہاری مدح ، مذمت ، انکار کی پروا نہیں کرتا۔بلکہ اس لئے سناتا ہوں کہ تم میں سے کوئی بدگمانی کر کے گنہگار نہ ہو جائے میں تمہارے روپے کا محتاج نہیں۔حضرت صاحب کے وقت میں بھی ایسے اموال میرے پاس آتے تھے۔اور میں لے لیتا تھا۔میں تمہاری بھلائی کے لئے کہتا ہوں۔مجھے تم میں سے کسی کا خوف نہیں اور بالکل نہیں۔ہاں میں صرف خدائی کا خوف رکھتا ہوں۔پس تم ایسی بدگمانی نہ کرو۔تو یہ کرو اگر ہمارا گناہ ہے تو ہمارے ہی ذمہ رہنے دو۔اگر میں غلطی کرتا ہوں اس بڑھاپے اور اس عمر میں قرآن مجید نے (مجھے ) نہیں سمجھایا۔تو پھر تم کیا سمجھاؤ گے؟ میری حالت یہ ہے کہ بیٹھتا ہوں تو پیر دکھی ہوتے ہیں۔کھڑا ہوتا ہوں تو محض اس نیت سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تھے۔و پس میری سنو اور خدا کے لئے سنو! اس کی بات ہے جو میں سناتا ہوں۔میری نہیں کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلَا تَفَرَّقُوا ٤٨ اس تقریر سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت یتیم اور مسکین بچوں کی شادیوں میں خاص دلچسپی رکھتے تھے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ کے مناسب حال ایک دو واقعات بھی پیش کر دیئے جائیں۔ایک سید کا اپنی بیٹی کی شادی کے لئے امداد طلب کرنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: حضرت خلیفہ اول کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں سید ہوں۔میری بیٹی کی شادی ہے۔آپ اس موقعہ پر میری کچھ مددکریں۔حضرت ـور