حیاتِ نور

by Other Authors

Page 530 of 831

حیاتِ نور — Page 530

۵۲۵ اللہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔اور اس کے ساتھ ہی تم بھی بودے ہو جاؤ گے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمُ تنازعہ کرو گے تو بودے ہو جاؤ گے۔اور تمہاری ہوا نکل جائے گی۔پھر تمہارا جمع جتھاٹوٹ کر قوت منتشر ہو جائے گی اور دشمن تم پر قابو پالیں گے“۔۷۵ دردمند دل سے نصیحت اس کے بعد بعض فروعی اختلافات کا ذکر آنے پر فرمایا: دیکھو! میں خلیفہ امسیح ہوں۔اور خدا نے مجھے بنایا ہے۔میری کوئی خواہش اور آرزو نہ تھی اور کبھی نہ تھی۔اب جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ روا پہنا دی ہے۔میں ان جھگڑوں کو نا پسند کرتا ہوں۔اور سخت نا پسند کرتا ہوں۔میں نہیں چاہتا کہ تم میں ایسی باتیں پیدا ہوں۔جو تنازع کا موجب ہوں۔اس لئے میں اس خیال سے کہ سرچشمه شاید گرفتن به میل چوپر شد نشاید گذشتن به پیل اس قسم کے لکھے جھگڑوں کو روکنا چاہتا ہوں۔تم کو کیا معلوم ہے کہ قوم میں تفرقہ کے خیال سے بھی میرے دل پر کیا گزرتی ہے؟ تم اس درد سے واقف نہیں۔تم اس تکلیف کا احساس نہیں رکھتے ، جو مجھے ہوتی ہے۔میں یہ چاہتا ہوں اور خدا ہی کے فضل سے یہ ہوگا کہ میں تمہارے اندر کسی قسم کے تنازعہ اور تفرقہ کی بات نہ سنوں بلکہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا عملی نمونہ ہو۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلَا تَفَرَّقُوا۔۔۔میں پھر تمہیں کہتا ہوں۔جو سنتا ہے۔سن لے اور دوسروں کو پہنچا دے کہ " جھگڑا مت کرو۔ہم مر جائیں گے تو پھر تمہیں بہت سے موقعے جھگڑنے کے ہیں ! تم سمجھتے ہو میں حضرت ابو بکر کی طرح آسانی سے خلیفہ بن گیا ہوں ؟ تم اس حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے۔اور نہ اس دکھ کا اندازہ کر سکتے ہو۔اور نہ اس بوجھ کو سمجھ سکتے ہو۔جو مجھ پر رکھا گیا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ میں اس بوجھ کو برداشت کر سکا۔تم میں سے کوئی بھی نہیں۔جو اس کو برداشت تو ایک طرف محسوس بھی کر ـور