حیاتِ نور — Page 529
سَاتِ نُ ـور ۵۲۴ پر تمام برکتیں اس فرمانبرداری کی وجہ سے نازل ہوئیں۔اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّةٌ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمُتُ لِرَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔اس لئے تم بھی اگر برکات سماوی سے بہرہ اندوز ہونا چاہتے ہو۔تو متقی بنو۔اور تقویٰ کی حقیقت بچے مسلمان میں پیدا ہوتی ہے۔پس تم بھی مسلم بنو۔اور مرتے وقت تمہارا خاتمہ اسلام پر ہو۔سکے ۲ - حبل اللہ کو پکڑو اور تفرقہ نہ کرو پھر فرمایا: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَّلَا تَفَرَّقُوا - حبل اللہ کو مضبوط پکڑ لو۔اور سب کے سب مل کر مجموعی طاقت سے حبل اللہ کو پکڑو۔اور تفرقہ نہ کرو۔یہ آیت میں آج تم پر تلاوت کرتا ہوں۔اور پھر سناتا ہوں۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَّلَا تَفَرَّقُوا۔تم خدا کی جیل کو مل کر مضبوط پکڑے رکھو۔اسے چھوڑو نہیں۔اور اس سے جدا نہ ہو۔اور نہ با ہم تفرقہ کرو۔دین اسلام میں یہ رسہ جس کو حبل اللہ کہا گیا ہے۔قرآن مجید ہے۔آریہ، برہمو، سناتن ، بیچی ، دہریہ۔محمد بھی اس رسہ کو زور سے پھینچ رہے ہیں اور زور لگا کر اپنی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔دوسری طرف تم نے اس حبل اللہ کو پکڑنے کا دعوی کیا ہے۔پس تم اس دعوی کو بلا دلیل نہ رہنے دو۔اور پوری طاقت و ہمت اور یک جہتی سے اس کو مضبوط پکڑ کر زور لگاؤ۔ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین اسلام اس رسہ کو لیجائیں۔(خدا کرے ایسا نہ ہو ) اس رسے کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید تمہارا دستور العمل اور ہدایت نامہ ہو۔تمہاری زندگی کے تمام مرحلے اس کی ہدایتوں کے ماتحت ہوں۔تمہارے ہر ایک کام ہر حرکت و سکون میں جو چیز تم پر حکمران ہو۔وہ خدا تعالیٰ کی یہ پاک کتاب ہو۔جو شفا اور نور ہے“۔ہے میں پھر تمہیں اللہ کا حکم پہنچا تا ہوں سنو اور غور سے سنو۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعاً وَّلَا تَفَرَّقُوا۔تفرقہ مت کرو ”دیکھو! تفرقہ نہ کرو۔اگر تفرقہ کرو گے تو جانتے ہو۔اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یہ جبل