حیاتِ نور — Page 466
۴۶۲ منگل پہلا روزہ تھا۔بدر میں مدینہ المسیح “ کے عنوان کے تحت لکھا ہے:۔مسجد مبارک میں حافظ صوفی تصور حسین پچھلی رات سحری کے وقت ۸ رکعت میں اور مسجد اقصیٰ میں حافظ محمد ابراہیم صاحب بعد از عشاء ۲۰ رکعت میں قرآن سنانے کے لئے مقرر ہوئے۔اللہ تعالیٰ ان کو تقویٰ و اخلاص، صحت و عافیت کے ساتھ اس کارخیر کی توفیق دے۔حضرت امیر المومنین باوجود نا سازی مزاج قرآن سننے میں شامل ہوتے ہیں آپ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ایک پارہ ہر ده روز سنایا کروں۔۱۵ حضرت اقدس کی صداقت پر قسمیہ شہادت سردار محمد عجب خاں صاحب سے کسی شخص نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق سوال کیا۔انہوں نے جو جواب دیا۔وہ لکھ کر حضرت امیر المومنین کی خدمت میں اس لئے پیش کیا کہ آیا میرا جواب صحیح ہے یا نہیں۔حضور نے ان کے جواب سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ دو بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وآله مع السليم اما بعد فالسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاته دل چیر کر دیکھنا یا دکھانا انسانی طاقت سے باہر ہے۔قسم پر کوئی اعتبار کرے تو واللہ العظیم کے برابر کوئی قسم مجھے نظر نہیں آتی۔نہ آپ میرے ساتھ میری موت کے بعد ہوں گے نہ کوئی اور میرے ساتھ سوائے میرے ایمان و اعمال کے ہو گا۔پس یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے والا ہے۔والله العظيم والله الذي باذنه تقوم السماء والارض۔میں مرزا صاحب کو مجد داس صدی کا یقین کرتا ہوں۔میں ان کو راستباز مانتا ہوں۔حضرت محمد رسول اللہ النبی العربی المکی خاتم النبیین کا غلام اور اس کی شریعت کا بدل خادم مانتا ہوں اور مرزا خود اپنے آپ کو جاں نثار غلام نبی عربی محمد بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف کا مانتے تھے۔نبی کے معنی لغوی پیش از وقت اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر خبر دینے والا ہم لوگ یقین کرتے ہیں نہ شریعت لانے والا۔"مرزا صاحب اور میں خود جو شخص ایک نقطہ بھی قرآن کا اور شریعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہ مانے ، اسے کافر اور لعنتی یقین کرتا ہوں۔یہی میرا