حیاتِ نور — Page 467
ور اعتقاد ہے اور یہی میرے نزدیک مرزا غلام احمد کا تھا۔کوئی رد کرے یا نہ مانے یا منافق کہے اس کا معاملہ حوالہ بخدا۔نورالدین بقلم خود ۲۲/اکتوبر ، 24 1910 - محلہ دار العلوم حضرت خلیفہ امسیح کے زمانہ میں جب مدرسہ تعلیم الاسلام، مسجد نور اور بورڈنگ ہاؤس کی عمارتیں باہر کھلے میدان میں بننا شروع ہو گئیں تو کوئی اس جگہ کا کچھ نام لیتا تھا کوئی کچھ۔اس پر اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی نے حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں یہ صورت حال پیش کر کے عرض کی کہ حضور اس محلہ کا کوئی نام تجویز فرما دیں۔اس پر حضور نے اس محلہ کا نام ”دارالعلوم“ تجویز فرمایا۔۵۷ ایک معذرت حضرت خلیفۃ اسیح الاول کے عہد مبارک میں غیر احمدیوں ، آریوں اور عیسائیوں کے ساتھ متعدد کامیاب مناظرے ہوئے۔کئی وجود تبلیغ احمدیت و اسلام کے لئے ہندوستان کے طول و عرض میں چکر لگاتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں ایسی ایسی شاندار کامیابیاں عطا فرمائیں کہ ان کا تفصیلی تذکرہ قارئین کرام و آئندہ نسلوں کے لئے یقینا ازدیاد علم و عرفان کا موجب ہے۔اور دل چاہتا تھا کہ انہیں اس کتاب کی زینت بنایا جائے کیونکہ تاریخ احمدیت کا یہ بھی ایک زریں باب ہے۔لیکن چونکہ کتاب ہذا کا حقیقی موضوع حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الاول کی سیرت و سوانح سے متعلق واقعات کا اختصار کے ساتھ یکجائی طور پر ذکر کرنا ہے اور باوجود اختصار کے کتاب کا حجم زیادہ ہوتا جا رہا ہے اس لئے ہم معذرت کے ساتھ ان مناظرات اور جلسوں وغیرہ کا ذکر کئے بغیر اپنے اصلی موضوع کو جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔اعلان از جانب حضرت خلیفه امسیح الاول ابتداء نومبر 1910ء میں حضرت خلیفہ المسیح الاول کی طرف سے جناب ایڈیٹر صاحب بدر نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا: حضرت سلمہ ربہ نے عاجز کو ارشاد فرمایا ہے کہ چونکہ آپ کی طبیعت اکثر علیل رہتی ہے۔اور بعض دفعہ بیماری بہت بڑھ جاتی ہے اور انسان کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔اس واسطے حضور کی طرف سے اخباری اعلان کیا جاوے کہ اگر کسی کا