حیاتِ نور

by Other Authors

Page 439 of 831

حیاتِ نور — Page 439

ـور ۴۳۵ تکلیف زیادہ ہے۔میں اس کو دیکھ کر مہاراج کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں۔ملازم چلا گیا۔شاید مہاراج سے شکایت بھی کی ہوگی۔حضرت مولوی صاحب چوڑھے کے گھر گئے۔اسے درد قولنج تھا۔آپ نے اس کو انیمہ کیا۔اسے پاخانہ آگیا اور درد جاتا رہا۔ہوش آئی اور آنکھیں کھولیں۔اس کے دل سے دعا نکلی۔پر میٹر تینوں سکھی رکھے تے اونہوں دی جو تینوں اچھے لیا یا ائے۔یعنی خدا تجھے خوش رکھے اور اسے بھی جو تجھے یہاں لایا ہے۔آپ فرمانے لگے۔مجھے یقین ہو گیا کہ اس کے دل سے یہ دعا نکلی ہے اور وہ قبول ہو گئی ہے اور مہاراج ضرور اچھے ہو گئے ہونگے اس لئے فارغ ہو کر آپ مہاراج کی خدمت میں حاضر ہوئے مہاراج انتظار کر رہے تھے۔کہنے لگے۔بہت دیر لگائی۔آپ نے مہاراج کو ساری بات سنائی اور کہا کہ چوڑھے کے دل سے دعا نکلی تھی تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ مہاراج اچھے ہو گئے ہیں۔مہاراج نے کہا۔اب میری طبیعت بہتر ہے۔پھر کہا۔طبیب کو ایسا ہی ہونا چاہئے اور دوسونے کی چوڑیاں حصہ دیں۔آپ نے اس ملازم کو بلایا جو آپ کو بلانے گیا تھا۔وہ جھینپتا ہوا آیا۔آپ نے ایک چوڑی اس کو دی۔وہ کہنے لگا۔آپ مجھے کیوں دے رہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اس میں تمہارا بھی حصہ ہے۔اگر تم مہاراج کے پاس میری شکایت نہ کرتے تو یہ انعام مجھے نہ ملتا۔اس مکرم عبد الغفور صاحب سیکریٹری انجمن احمد یہ در گانوالی ضلع سیالکوٹ نے اپنے ایک معمر غیر احمدی رشتہ دار کی جو دو سال حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں جموں رہے تھے، مندرجہ ذیل روایت الفضل میں شائع کروائی تھی۔اس روایت سے بھی حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے جذ بہ غربا پروری اور خدمت خلق پر عجیب روشنی پڑتی ہے۔وہ لکھتے ہیں: کشمیر میں مہا راجہ امرسنگھ صاحب حکومت کرتے تھے۔اور آپ ان کے یہاں شاہی طبیب تھے۔درباری مصروفیات کے علاوہ آپ کو جب کبھی موقع ملتا۔غریب مریضوں کا اپنی خداداد حکمت و قابلیت سے علاج کرتے اور مفت کرتے۔آپ کی غریب نوازی کا دائرہ یہاں تک ہی محدود نہ تھا اور بیسیوں طریقے آپ نے اختیار کر رکھے تھے جن سے محتاجوں کی حاجت براری ہوا کرتی تھی۔چنانچہ ایسا ہوتا کہ روز کئی