حیاتِ نور

by Other Authors

Page 438 of 831

حیاتِ نور — Page 438

سلام سلام سلام سمجھتا ہوں کہ اس فضل الہی کی جاذب خدمت بنی نوع انسان ہے اور یہ جذ بہ بدء شباب سے میرے اندر موجود ہے کہ بلا لحاظ فرق ملل، ملک و قوم بنی نوع انسان کی خدمت کروں اور عام فیض پہنچاؤں جو علمی رنگ میں بھی ہو اور عملی رنگ میں بھی۔حضرت مفتی صاحب فرماتے ہیں۔" یہ میرے الفاظ ہیں۔اس وقت غالبا میں نے کسی مضمون میں لکھ بھی دیا تھا غرض ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد کا قول درست ہے اور ہر ایک بنی نوع انسان کا خادم مومن مسلم اپنے اپنے دائرہ عمل و قابلیت وضرورت حقہ کے مطابق اس کا اجر پاتا ہے اور وہ کسی نہ کسی رنگ میں لوگوں کا مخدوم بن جاتا ہے۔خدمت خلق کے واقعات اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدمت خلق کا جذ بہ حضرت امیر المومنین خلیفہ امسح الاول میں پایا جاتا تھا، دنیا میں بہت کم ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ اس ضمن میں دو واقعات جو ہیں تو ریاست جموں د کشمیر کے زمانہ کے لیکن چونکہ مجھے اس وقت موصول ہوئے ہیں جبکہ اس حصہ کی کتابت ہو چکی ہے اس لئے انہیں یہاں ہی درج کیا جاتا ہے۔حکیم خادم علی صاحب سیالکوٹ کے ایک مشہور طبیب ہیں۔حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ان کے استاد کے استاد تھے، نے مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب شاکر -1 سے بیان کیا کہ ایک دفعہ آدھی رات کے بعد مہاراجہ کشمیر کی طبیعت علیل ہو گئی اور مہاراجہ نے حضرت مولوی صاحب کے پاس اپنا ملازم بھیجا۔جس نے آپ سے کہا کہ مہاراج کی طبیعت خراب ہے۔آپ کو یاد کیا ہے۔اسی وقت ایک مہترانی بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میرا خاوند بہت بیمار ہے۔پیٹ میں درد ہے اور نہ بھی نہیں آتا۔خدا کے لئے چلیں اور اسے دیکھ لیں یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے کی۔آپ نے مہاراج کے ملازم سے کہا۔تم چلو۔میں اس کو دیکھ کر مہاراج کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں۔ملازم نے کہا چوڑھا پہلے ، مہاراج پیچھے۔اور جو ہاتھ چوڑھے کو لگا ئیں گے وہی مہاراج کو بھی لگائیں گئے۔آپ نے فرمایا۔اس کی ر