حیاتِ نور — Page 440
وم امیدوار اپنی عرضیاں سفارش کے لئے لاتے۔آپ نہ صرف سفارش کرتے بلکہ مہا راجہ صاحب سے منظور کروا دیتے۔ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ یکے بعد دیگرے آٹھ امیدوار اپنی عرائض سفارش کی غرض سے لائے۔آپ نے ان کی دل شکنی نہ کی بلکہ ہر ایک سے یہی فرمایا کہ میں تمہاری عرضی رکھ لیتا ہوں۔صبح مہاراجہ صاحب کے پیش کر کے تمہیں اطلاع دوں گا۔دوسرے روز حسب معمول آپ دربار میں گئے اور اچھا موقعہ پا کر ایک عرضی مہاراجہ صاحب کے پیش کر دی۔مگر مہاراجہ صاحب نے عرضی نا منظور کر دی۔آپ نے دوسری پیش کر دی۔وہ بھی قبولیت کا درجہ حاصل نہ کر سکی بیٹی کہ آپ نے سات عرضیاں پیش کیں اور ساتوں کا یہی حشر ہوا۔لیکن آپ بالکل مایوس نہ ہوئے۔بالآخر آٹھویں بھی پیش کر دی۔مہاراجہ صاحب آپ کی مستقل مزاجی سے حیران رہ گئے۔اور آپ سے اس طرح مخاطب ہوئے کہ مولوی صاحب ! کوئی ایسا شخص میری نظر سے آجنگ نہیں گزرا جسے سات بار ناکامی ہوئی ہو اور اس نے اپنا قدم ذرہ بھر بھی پیچھے نہ کیا ہو۔مگر آپ نے اپنی تعریف کا نا گوارا نہ کیا اور مہاراجہ صاحب کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ چونکہ میں عرائض کنندگان سے وعدہ کر چکا تھا کہ تمہاری عرضیوں کو ضرور مہاراجہ کے پیش کر دوں گا۔اس لئے اس فریضہ کو ادا کیا ہے۔مہاراجہ صاحب اس جواب سے اور زیادہ محظوظ ہوئے۔اور آٹھوں عرضیوں کو منظور کر لیا۔۲۲ حضرت میر ناصر نواب صاحب کے مبارک کام ۲۴ / جون ۱۹۰۹ء حضرت میر ناصر نواب نے "بدر" مورخہ ۲۴ / جنوری ۱۹۰۹ ء میں اس امر کا اعلان کیا کہ قادیان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر چار قسم کی عمارات کی اشد ضرورت ہے اور اس ضرورت کو حضرت خلیفہ اسیخ نے بھی تسلیم فرما کر اپنی جیب خاص سے دو صد ساٹھ روپیہ چندہ بھی عطا فرمایا۔فجزاه الله احسن الجزاء، بہر حال وہ تعمیرات یہ ہیں۔مسجد جو بورڈنگ ہاؤس کے قریب تعمیر ہوگی۔جس پر کم و بیش پانچ ہزار روپیہ خرچ ا- آئے گا۔یہ وہی مسجد ہے جو بعد میں مسجد نور کے نام سے مشہور ہوئی۔مردانہ ہسپتال جو بعد میں ” نور ہسپتال کے نام سے مشہور ہوا۔اس پر بھی پانچ ہزار سے زائد خرچ کا اندازہ کیا گیا۔ـور