حیاتِ نور

by Other Authors

Page 411 of 831

حیاتِ نور — Page 411

۴۰۸ ور خلیفہ المسیح اول کے ان کاموں کا ذکر کرتے ہیں جو سلسلہ کی ترقی کے لئے آپ کے عہد خلافت میں سر انجام پائے۔حضرت مسیح موعود کی یادگار مدرسه دینیات - جون ۱۹۰۸ء حضرت اقدس علیہ السلام کی وفات کے بعد جب قادیان میں موجود ساری جماعت نے حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کو خلیفة المسیح مان کر بیعت کرنا چاہی تو آپ نے جو تقریر سب سے پہلے کی ناظرین اسے پیچھے پڑھ چکے ہیں۔اس کا آخری حصہ یہ تھا: وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔اُن میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے ، واعظین کے بہم پہنچانے اور اُن امور کو جو وقتا فوقع اللہ میرے دل میں ڈالے کو شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات ، دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہوگی اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں۔جس نے فرمایا ولتكن منكم امة يدعون الى الخير - یا درکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں۔جس کا کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی“۔اس حصہ تقریر سے ظاہر ہے کہ آپ کے دل میں دینی تعلیم کے عام کرنے اور دینی درسگاہ کے قیام سے متعلق کس قدر جوش تھا۔چنانچہ اس کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ نے جماعت میں سب سے پہلی اہم تحریک یہ فرمائی کہ مدرسہ احمدیہ جس کی بنیاد حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں رکھ دی گئی تھی مگر سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اسے اعلی پیمانہ پر نہیں چلایا جا سکتا تھا اس کے شایانِ شان طریق پر چلایا جائے۔چنانچہ آپ کی خواہش کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یادگار کے عنوان کے ماتحت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے، حضرت نواب محمد علی خاں صاحب اور حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی طرف سے ایک متفقہ تحریر شائع کی گئی جس میں حضرت اقدس علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے ارشادات کی روشنی میں واعظین اور مبلغین تیار کرنے کے لئے ایک دینی مدرسہ کے قیام کی پر زور تحریک کی گئی۔ان اصحاب کی طرف سے شائع کردہ تحریر کا خلاصہ یہ تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح کی خواہش ہے کہ دینی مدرسہ کو اعلی پیمانہ پر چلایا جائے۔اس کے لئے ضرورت ہے ایک عمدہ مکان کی ، پھر ایک بڑی لائبریری کی ، پھر اعلیٰ درجہ کے سٹاف کی ، پھر کافی تعداد و ظائف کی ، جس سے ایک خاصی تعد اد طلباء کی تعلیم پاسکے۔