حیاتِ نور — Page 410
ـور ۴۰۷ چھٹا باب حضرت خلیفہ امسیح الاول کے عہد با سعادت کے عظیم الشان کارنامے اسلام میں نظام خلافت اسلام میں خلافت کا نظام ایک نہایت ہی مبارک نظام ہے۔خلافت کے بغیر نہ تو کسی قوم کے عقائد درست رہ سکتے ہیں اور نہ کوئی قوم اتفاق اور اتحاد کے رشتہ میں منسلک ہو سکتی ہے۔آیت استخلاف میں جو خلافت کی برکات درج ہیں ان میں سے ایک اہم برکت کا ان الفاظ میں ذکر ہے کہ ولیمکنن لهم دينهم الذي ارتضی لھم کہ خلفاء کے ذریعہ سے اللہ تعالٰی مومنوں کے اس دین کو ممکنت بخشتا ہے جسے وہ ان کے لئے پسند کرتا ہے۔اب دیکھ لیجئے اگر احمدیت میں خلافت نہ ہوتی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد جماعت اول تو پراگندہ طبع اور پراگندہ خیال ہو جاتی۔دوسرے جن عقائد پر حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جماعت قائم تھی ، رخنہ انداز لوگ انہیں رخنہ اندازی کر کے نہ معلوم جماعت کو کس راستہ پر ڈال دیے مگر اللہ تعالی ہزار ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل کرے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے وجود باجود پر کہ آپ نے روح القدس سے مؤید ہو کر ایسے نظم وضبط کے ساتھ جماعت کی رہنمائی فرمائی کہ رخنہ اندازوں کو بری طرح شکست ہوئی۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں جو عظیم الشان کارنامے سر انجام دیتے ہیں۔ان میں سے یہ اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ اگر جماعت کے لوگ اسے یادرکھیں اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی ہدایت کرتے جائیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا قدم کیا بلحاظ عقائد کے ار کیا بلحاظ اعمال کے ایک ایسی مضبوط چٹان پر قائم ہو جاتا ہے کہ پھر دشمن کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے اپنی جگہ سے متزلزل نہیں کر سکتی۔چنانچہ خلافت ثانیہ میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ جماعت پر جو خطرناک سے خطرناک زلزلے آئے ہیں اگر جماعت میں خدانخواستہ خلافت کا نظام نہ ہوتا تو آج جماعت کا وجود ایک قصہ پارینہ بن کر رہ جاتا۔نہ عقائد صحیح رہتے اور نہ عمل کی قوت باقی رہتی۔پس جماعت کی آئندہ آنے والی نسلوں کو چاہئے کہ وہ اس قیمتی سبق کو ہمیشہ یادرکھیں اور نظام خلافت کو قائم رکھنے کے سلسلہ میں اگر انہیں بڑی سے بڑی قربانیاں بھی دینا پڑیں تو ان سے قطعاً دریغ نہ کریں۔اس اہم امر کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب ہم حضرت