حیاتِ نور — Page 400
اتِ نُ ـور ۳۹۷ تھے۔مگر یہ صرف ایک برائے نام خطاب ہی خطاب تھا۔جس کے اندر حقیقت تو ایک رائی کے دانہ برابر بھی نہ تھی۔بہر حال ان کے عزائم اور افعال سے یہ ضرور ظاہر ہو گیا کہ جس وقت یہ لوگ زبان سے یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں خلافت کی خواہش نہیں۔دل ہر گز ان کے ساتھ نہیں تھے۔حضرت خلیفہ ابیع الاول کی وصیت۔جنوری 1911ء جناب چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب بارایٹ لا امیر جماعت احمد یہ لاہور کا بیان ہے کہ حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل نے مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں حلفاً یہ بیان کیا کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح اول گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے زیادہ بیمار ہو گئے۔تو آپ نے اپنی وصیت میں لکھا کہ میرے بعد خلیفہ محمود ہوگا۔اور یہ وصیت اپنے ایک شاگر دشیخ تیمور صاحب کے سپرد کی۔مغل صاحب نے فرمایا کہ جس کمرے میں شیخ تیمور صاحب رہتے تھے۔میں بھی اسی کمرہ میں لیٹا ہوا تھا۔یہ سمجھتے تھے کہ سورہا ہے مگر ان کی حرکات کو دیکھ رہا تھا انہوں نے لیمپ کی گرمی دے کر اس وصیت والے لفافے کو کھولا۔وصیت پڑھ کر پھر بند کر دیا۔بعد میں جب حضرت خلیفہ المسیح اول کی صحت اچھی ہوگئی تو آپ نے وہ وصیت واپس لے لی۔مغل صاحب فرماتے تھے کہ پہلے حضور کا خیال تھا کہ ابھی جماعت حضرت میاں صاحب ( یعنی خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ۔ناقل ) کو اچھی طرح سے نہیں سمجھی اس لئے وصیت لکھ دی۔وفات سے قبل اس لئے دوبارہ آپ کا نام نہ لکھا کہ اب جماعت آپ کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے۔$6 اس امر کی تصدیق کہ واقعی حضرت خلیفہ المسح الاول نے وصیت میں سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کا نام لکھا تھا۔مولوی محد علی صاحب کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ مولوی صاحب لکھتے ہیں: 1911ء میں جو وصیت آپ ( حضرت خلیفہ المسیح الاول) نے لکھوائی تھی اور جو بند کر کے ایک خاص معتبر کے سپرد کی تھی۔اس کے متعلق مجھے معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں آپ نے اپنے بعد خلیفہ ہونے کے لئے میاں صاحب کا نام لکھا تھا۔