حیاتِ نور — Page 401
ایک نکته قابل یاد ۳۹۸ اتِ تُـ ـور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دیا تھا کہ آپ کے بعد خلیفہ سید نامحمود ہی ہوں گے۔چنانچہ آپ نے انہی دنوں ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ ایک نکتہ قابل یا دسنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجود کوشش کے رک نہیں سکا۔وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا۔ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا۔ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے۔۷۸ برس تیک انہوں نے خلافت کی۔بائیس برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے۔یہ بات یا درکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے کہی ہے۔ہی حضرت مفتی محمد صادق صاحب لکھتے ہیں : اس واقعہ کے سنانے سے جس طرف آپ کا اشارہ ہے وہ بھی آپ کی اس وصیت سے معلوم ہوتا ہے جبکہ آپ گھوڑے سے گر کر بیمار ہوئے اور ایک شب آپ کو خیال آیا کہ سوجن دل کی طرف جارہی ہے۔تب آپ نے رات کے وقت قلم دوات طلب کی اور ایک کاغذ پر صرف دو لفظ لکھے خلیفہ محمود اور اپنے ایک شاگرد کو وہ کاغذ دیدیا۔الفضل“ میں یہ واقعہ اس طرح لکھا ہے کہ حضرت خلیفہ المسح الاول اپنے عہد خلافت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبعض پیشگوئیوں کے مطابق جب گھوڑے سے گرے اور آپ کے سر میں سخت چوٹ آئی تو ایک رات آپ کو خیال پیدا ہو ا کہ ورم دل کی طرف جا رہا ہے۔اس وقت آپ نے قلم دوات طلب فرمائی اور ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر اسے لفافہ میں بند کر دیا۔پھر کچھ لفافہ پر بھی ارقام فرمایا اور شیخ تیمور صاحب کو جو آپ کی خدمت میں رہتے تھے یہ کہتے ہوئے دیا کہ اگر میری وفات ہو جائے تو اس پر جو کچھ لکھا ہے اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ان کی روایت ہے کہ لفافہ پر لکھا تھا۔علی اسوۃ ابی بکر جس کا نام اس لفافہ میں ہے۔اس کی بیعت کرو۔اور جب اسے کھول کر دیکھا گیا تو اس کے اندر نام لکھا تھا۔محمود احمد“ کے