حیاتِ نور

by Other Authors

Page 399 of 831

حیاتِ نور — Page 399

۳۹۶ شخص جلد بازی کرے اور پیچھے فساد ہو۔ہمارا انتظار ضرور کر لیا جاوے۔میر صاحب نے تو ان کو یہ جواب دیا کہ ہاں جماعت میں فساد کو مٹانے کے لئے کوئی تجویز ضرور کرنی چاہئے۔مگر میں نے اس وقت کی ذمہ داری کو محسوس کر لیا اور صحابہ کا طریق میری نظروں کے سامنے آگیا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے متعلق تجویز خواہ وہ اس کی وفات کے بعد کے لئے ہی کیوں نہ ہو، نا جائز ہے۔پس میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ ایک خلیفہ کی زندگی میں اس کے جانشین کے متعلق تعیین کر دینا اور فیصلہ کر دینا کہ اس کے بعد فلاں شخص خلیفہ ہوگا ، گناہ ہے۔میں تو اس امر میں کلام کرنے کو ہی گناہ سمجھتا ہوں“۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں: جیسا کہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے۔خواجہ صاحب کی اس تقریر میں بعض باتیں خاص توجہ کے قابل تھیں۔اول تو یہ کہ اس سے ایک گھنٹہ پہلے تو انہی لوگوں نے حضرت خلیفہ المسیح اول سے کہا تھا کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں۔وصیت کی ضرورت نہیں اور وہاں سے اٹھتے ہی آئندہ کا انتظام سوچنا شروع کر دیا۔دوسری بات یہ کہ ان کی تقریر سے صاف طور پر اس طرف اشارہ نکلتا تھا کہ ان کو تو خلافت کی خواہش نہیں۔لیکن مجھے ہے مگر میں نے اس وقت ان بحثوں میں پڑنے کی ضرورت نہ سمجھی کیونکہ ایک دینی سوال در پیش تھا اور اس کی نگہداشت سب سے زیادہ ضروری تھی۔۷۲ آئے ! اب ہم اس گفتگو کا تجزیہ کریں۔جناب مولوی محمد علی صاحب اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب اگر خلافت کے خواہشمند نہ ہوتے تو ان کو یہ کہنے کی ہرگز ضرورت نہ تھی کہ ہمارا انتظار کر لیا جاوے ورنہ کہیں فتنہ نہ کھڑا ہو جائے۔اگر ان کے نزدیک بھی حضرت صاحبزادہ صاحب ہی خلافت کے اہل تھے تو پھر تو انہیں اس سوال کے اٹھانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔رہا یہ امر کہ ان میں سے کسی کو خلافت کی خواہش نہیں یہ بالبداہت غلط ہے کیونکہ انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات پر ۱۹۱۴ء میں لاہور جا کر جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو اپنے گروہ کا امیر مقرر کیا۔اور مولوی صاحب نے خلافت سے اپنے مقام امارت کو بلند ثابت کرنے کے لئے اپنے ماتحت چار خلیفے مقرر کئے جن میں سے ایک خواجہ کمال الدین صاحب تھے اور خواجہ صاحب اپنے آپ کو خلیفہ المسیح لکھتے بھی ،