حیاتِ نور

by Other Authors

Page 394 of 831

حیاتِ نور — Page 394

ـور ساتھ دوں گا۔مجھے دوبارہ بیعت لینے کی ضرورت نہیں۔تم اپنے پہلے معاہدے پر قائم رہو۔ایسا نہ ہو کہ نفاق میں مبتلا ہو جاؤ۔اگر تم مجھ میں کوئی اعوجاج دیکھو تو اس کی استقامت کی دعا سے کوشش کرو۔مگر یہ گمان نہ کرو کہ تم مجھے بڑھے کو آیت یا حدیث یا مرزا صاحب کے کسی قول کے معنے سمجھا لو گے۔اگر میں گندہ ہوں۔تو یوں دعا مانگو کہ خدا مجھے دنیا سے اٹھا لے۔پھر دیکھو کہ دعا کس پر الٹی پڑتی ہے۔طاعت در معروف ایک اور غلطی ہے۔وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں اطاعت نہ کریں گے یہ لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی آیا ہے ولا یعصینک فی معروف۔اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنالی ہے۔اس طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھا ہے۔اس میں ایک سر ہے۔میں تم میں سے کسی پر ہرگز بدظن نہیں۔میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا تا تم میں سے کسی کو اندر ہی اندر دھو کہ نہ لگ جائے۔وجه اختلاط " پھر کہتے ہیں کہ لوگوں سے اختلاط کرتا ہے اس کا جواب تمہارے لئے جو میرے مرید ہیں یہی کافی ہے کہ تم میرے آمر نہیں ہو بلکہ مامور ہو۔میں تمہارے ابتلا سے بہت ڈرتا ہوں۔اسلئے مجھے کمانے کا زیادہ فکر ہوتا ہے۔بمب کے گولے اور زلزلے سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ تم میں وحدت نہ ہو۔جلد بازی سے کوئی فقرہ منہ سے نکالنا آسان ہے مگر اس کا نکلنا بہت مشکل ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری نسبت نہیں بلکہ اگلے خلیفے کے اختیارات کی نسبت بحث کرتے ہیں مگر تمہیں کیا معلوم کہ وہ ابو بکر اور مرزا صاحب سے بھی بڑھ کر آئے۔میں آج کے دن ایک اور کام کرنے والا تھا مگر خدا تعالیٰ نے مجھے روک دیا اور میں اس کی مصلحتوں پر قربان ہوں۔تم میں جو نقص ہیں ان کی اصلاح کرو میں ایسے لوگوں کو جماعت سے الگ نہیں کرتا کہ شاید وہ