حیاتِ نور — Page 395
۳۹۲ سمجھیں۔پھر سمجھ جائیں۔پھر سمجھ جائیں۔ایسا نہ ہو کہ میں اُن کی ٹھوکر کا باعث بنوں۔میں اخیر میں پھر کہتا ہوں کہ آپس میں تباغض و تحاسد کا رنگ چھوڑ دو۔کوئی امر امن یا خوف کا پیش آ جاوے، عوام کو نہ سناؤ۔ہاں جب کوئی امر طے ہو جاوے تو پھر بے شک اشاعت کرو۔اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ یہ باتیں تمہیں ماننی پڑیں گی۔طوعاً و کرہا۔اور آخر کہنا پڑے گا اتینا طائعین۔جو کچھ میں کہتا ہوں تمہارے بھلے کی کہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہیں راہ ہدایت پر قائم رکھے۔اور خاتمہ بالخیر کرے۔آمین۔اس خطبہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ان تمام موٹے موٹے سوالات کا جواب دیا ہے جنہیں یہ لوگ اپنی کاروائیوں کے جواز کی دلیل کے طور پر پیش کیا کرتے تھے۔اب بھی اگر یہ باز آ جاتے تو اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے، اس سے بڑے بڑے انعامات پاتے مگر قسام ازل سے ان کے لئے کچھ اور ہی مقدر تھا۔انیای ذکرکرنا بھی ال از فائدہ نہ ہوگا کہ جس پر چہ میں حضرت خلیفہ مسیح کا یہ خطبہ چھپا ہے اسی پرچہ میں ان لوگوں کی طرف سے ایک ایسا اعلان شائع کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ گویا جن لوگوں کے اخراج از سلسلہ کے متعلق حضرت خلیفہ المسیح نے عید کے موقع پر جو اعلان کرنا تھا وہ ان لوگوں کے متعلق نہیں بلکہ ایسے لوگوں کے متعلق ہونے والا تھا جن کا انہیں کچھ علم ہی نہیں تھا اور انہیں تو گویا اس وقت پتہ لگا جب یہ عید کے موقع پر قادیان آئے۔یہ تجاہل عارفانہ کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔لہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں، جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے بظاہر حضرت خلیفہ ایح الاول کی مخالفت ترک کر دی تھی اور جناب مولوی محمد علی صاحب کو بھی ہمیشہ یہی سمجھاتے رہتے تھے کہ حضرت خلیفہ المسح تو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور تھوڑا عرصہ ہی دنیا میں رہیں گے نیز جماعت بھی ان : سے الگ ہونے کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔اس لئے ہمیں آئندہ کی فکر کرنی چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ جماعت کی نظر میں ہم ایسے کر جائیں کہ آپ کے بعد بھی ہم برسراقتدار نہ آ سکیں اور جماعت کسی اور کو خلیفہ منتخب کر لے۔ان کی خواہش یہ تھی کہ اگر ان میں سے کوئی خلیفہ ہو جائے تب تو خیر ہے ورنہ صدر انجمن کی بالا دستی کے لئے بہر حال زور لگانا چاہئے۔مگر اس کے لئے موقع کے منتظر تھے۔مکان یا حویلی والا معاملہ خواجہ صاحب کی غیر حاضری میں اٹھایا گیا تھا۔جبکہ وہ کشمیر گئے ہوئے تھے۔اگر وہ یہاں ہوتے تو غالبا وہ اس معاملہ کو اتنا طول نہ دیتے اور اپنے ساتھیوں کو موقع شناسی کی