حیاتِ نور — Page 393
بس پیشگوئی میں نہیں"۔ور چونکہ ان لوگوں کا زیادہ زور اس امر پر تھا کہ انجمن کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے لہذا جو فیصلہ انجمن کرے وہ ساری جماعت کے لئے قابل تسلیم ہونا چاہئے اس لئے ان کے مفروضہ کی بناء پر فرمایا کہ الوصیت کی تفہیم حضرت صاحب کی الوصیت میں معرفت کا ایک نکتہ ہے وہ میں تمہیں کھولکر سناتا ہوں جس کو خلیفہ بنانا تھا اس کا معاملہ تو خدا کے سپرد کر دیا اور ادھر چودہ اشخاص ( جو صدر انجمن کے ممبر اور ٹرسٹی تھے۔ناقل ) کو فر مایا کہ تم بحیثیت مجموعی خلیفہ اسیح ہو۔تمہارا فیصلہ قطعی فیصلہ ہے اور گورنمنٹ کے نزدیک بھی وہی قطعی ہے۔پھر ان چودہ کے چودہ کو باندھ کر ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرادی کہ اسے اپنا خلیفہ مانو۔اور اس طرح تمہیں اکٹھا کر دیا۔پھر نہ صرف چودہ کا بلکہ تمام قوم کا میری خلافت پر اجماع ہو گیا۔اب جو اجماع کا خلاف کرنے والا ہے وہ خدا کا مخالف ہے۔چنانچہ فرمایا: ومن يبتغ غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى و نصله جهنم وساءت مصيراً۔۔پس تم کان کھول کر سن لو۔اگر اب اس معاہدہ کے خلاف کرو گے۔تو اعقبهم نفاقاً فی قلوبھم کے مصداق بنو گے۔میں نے تمہیں یہ کیوں سنایا اس لئے کہ تم میں بعض نافہم ہیں جو بار بار کمزوریاں دکھاتے ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ مجھ سے بڑھ کر جانتے ہیں۔خدا پر بھروسہ خدا نے جس کام پر مجھے مقرر کیا ہے۔میں بڑے زور سے خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اب میں اس گرتے کو ہرگز نہیں اتار سکتا۔اگر سارا جہان اور تم بھی میرے مخالف ہو جاؤ تو میں تمہاری بالکل پروا نہیں کرتا اور نہ کروں گا۔تم معاہدہ کا حق پورا کرو۔پھر دیکھو کہ کس قدر ترقی کرتے ہو اور کیسے کامیاب ہوتے مجھے ضرورتا کچھ کہنا پڑتا ہے۔اس کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں تمہارا ہو