حیاتِ نور

by Other Authors

Page 384 of 831

حیاتِ نور — Page 384

ـور ۳۸۱ قادیان سے تشریف لے جائیں۔ڈاکٹر صاحب جو سمجھتے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کے جانے سے نہ معلوم کیا ہو جائے گا ، آسمان ہل جائے گا یا زمین لرز جائے گی۔انہوں نے جب یہ جواب سنا تو ان کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے کہا۔میرے نزدیک تو پھر بہت بڑا فتنہ ہوگا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب میں نے جو کچھ کہنا تھا کہ دیا۔اگر فتنہ ہوگا تو میرے لئے ہوگا۔آپ کیوں گھبراتے ہیں آپ انہیں کہہ دیں کہ وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں تو کل کی بجائے آج ہی چلے جاویں۔غرض اسی طرح یہ فتنہ بڑھتا چلا گیا۔اس کے بعد ان لوگوں نے عزت اور شہرت حاصل کرنے کے لئے احمدیت کے خصوصی مسائل کو بگاڑ نا شروع کر دیا۔ان کا یہ خیال تھا کہ علم کلام تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیش کریں گے مگر ایسی باتیں جن سے غیر احمد کی ناراض ہوتے ہیں انہیں ایسے رنگ میں پیش کریں گے جن سے وہ ناراض نہ ہوں۔حضرت خلیفہ المسیح الاول جس طرز پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے ملا کرتے تھے اور ان کا احترام کیا کرتے تھے بلکہ اپنی بیماری کے ایام میں امام الصلوۃ بھی انہیں ہی مقرر فرمایا کرتے تھے۔اس سے ان کا اس امر کا یقین لحظه بلحظہ بڑھتا جاتا تھا۔کہ آئندہ خلافت ہم میں سے کسی کو نہیں ملے گی۔بلکہ میاں صاحب ( یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ ) ہی کو قوم بطور خلیفہ بنے گی۔اس لئے ان کا بخض خاندان مسیح موعود سے عموما اور حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف سے خصوصا بڑھتا جاتا تھا۔اور وہ یہ مصمم ارادہ کئے ہوئے تھے کہ اگر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب خلیفہ منتخب ہو گئے تو ہم قادیان کو چھوڑ کر لاہور چلے جائیں گے اور اپنا مشن الگ کھول دیں گے۔اور چونکہ غیر احمدیوں کو ناراض کرنے والے مسائل ہم چھوڑ دیں گے۔اس لئے غیر احمدی خوش ہو کر اشاعت اسلام کے کام میں شرکت کرنے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔اور خلافت سے تعلق رکھنے والا گر وہ ہمارے مقابل میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھے گا۔مگر اللہ تعالیٰ کے کام بھی نرالے ہوتے ہیں۔جس قسم کے خواب یہ لوگ دیکھ رہے تھے۔اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوں گے۔چنانچہ خلافت ثانیہ کے چنانچہ مصنفین مجاہد کبیر" لکھتے ہیں۔” اس میں شک نہیں کہ اگر میاں محمود احمد صاحب اور ان کی جماعت حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو ان کے اصل اور صحیح مقام پر رہنے دیتی اور ان کے متعلق عالیا نہ عقائد کا اظہار نہ کرتی تو یہ مخالفت کبھی نہ پہنے پانی اور احمدیت کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہوتی۔صفحہ ۱۹۲ "