حیاتِ نور

by Other Authors

Page 383 of 831

حیاتِ نور — Page 383

۳۸۰ غرض ان تینوں کی بیعت لی گئی اور جلسہ برخواست ہوا۔اس وقت ہر ایک شخص مطمئن تھا اور محسوس کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو بڑے ابتلا سے بچایا۔لیکن مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب جو ابھی بیعت کر چکے تھے اپنے دل میں سخت ناراض تھے اور ان کی وہ بیعت جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا دکھاوے کی بیعت تھی۔انہوں نے ہرگز خلیفہ کو واجب الاطاعت تسلیم نہ کیا تھا۔حضرت ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر کا بیان ہے کہ مسجد کی چھت سے نیچے اترتے ہی مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب کو کہا کہ آج ہماری سخت ہتک کی گئی ہے۔میں اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔ہمیں مجلس میں جوتیاں ماری گئی ہیں۔یہ ہے صدق اس شخص کا جو آج جماعت کی ۵۹ اصلاح کا مدعی ہے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ فرماتے ہیں: علاوہ ازیں ابھی چند دن نہ گزرے تھے کہ میری موجودگی میں مولوی محمد علی صاحب کا ایک پیغاہم حضرت خلیفہ امسیح اول کے پاس آیا کہ وہ قادیان سے جانے کا ارادہ کر چکے ہیں۔" ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اس وقت ان لوگوں سے خاص تعلق رکھتے تھے اور مولوی محمد علی صاحب کو جماعت کا ایک بہت بڑا ستون سمجھتے تھے۔ایک دفعہ میں حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اس قدر گھبرائے ہوئے آئے کہ گویا آسمان ٹوٹ پڑا ہے اور آتے ہی سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ بڑی خطرناک بات ہو گئی ہے آپ جلدی کوئی فکر کریں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا۔مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے میں اب قادیان میں نہیں رہ سکتا۔آپ جلدی سے کسی طرح ان کو منوا لیں۔ایسا نہ ہو کہ وہ قادیان سے چلے جائیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔میری طرف سے مولوی محمدعلی صاحب کو جا کر کہہ دیں کہ اگر انہوں نے کل جانا ہے تو آج ہی ــور