حیاتِ نور — Page 385
۳۸۲ آغاز میں یہ لوگ ناراض ہو کر لاہور آ گئے اور غیر احمدیوں کو خوش کرنے کے لئے اکثر احمدیت کے خصوصی مسائل کو خیر باد کہہ دیا۔مگر انہوں نے نہ خوش ہوتا تھا نہ ہوئے نتیجہ یہ ہوا کہ آج جبکہ ان کو مرکز سلسلہ سے الگ ہوئے قریباً پچاس سال گزر چکے ہیں اور اپنا مرکز بھی لا ہورا ایسے مرکزی شہر میں مقرر کیا ہوا ہے جہاں ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں ان کی تعداد جماعت قادیان کے مقابلہ میں پچاسواں حصہ بھی نہیں۔پس اگر یہ چاہیں تو اب بھی حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اس زریں نصیحت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ جماعت خلافت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔اب ہم پھر اصل موضوع کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے خلافت اور انجمن کا جھگڑا تو ہ یا ء میں کھڑا کیا تھا۔لیکن نبوت اور کفر و اسلام وغیر ہ مسائل شاء کی ابتداء میں شروع کئے اور العہ میں انہوں نے زور پکڑا۔اس موقعہ پر یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اصل جھگڑ ا صرف خلافت کا تھا۔گھبراہٹ ان لوگوں کو محض اس لئے پیدا ہوئی کہ ہمیں کسی نے خلیفہ بنانا نہیں اور انجمن میں ہماری اکثریت ہے۔لہذا ہمیں انجمن کے اختیارات بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود کے وصال پر جب انہوں نے حضرت خلیفہ المسح الاول کی بیعت کی تو سب سے پہلا اعلان جوان لوگوں نے کیا وہ یہ تھا کہ مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں۔اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب ہم سب میں سے اعلیٰ اور اتقی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوہ حسنہ قرار دے چکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر چه خوش بودے اگر ہر یک ز امت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے سے ظاہر ہے کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی موجودہ اور نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔" پس اب کس منہ سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ الوصیت میں خلافت کا ذکر نہیں۔ایک خطرناک روحانی اور اخلاقی کمزوری خواجہ صاحب سے یہ سرزد ہوئی کہ ان سے بیعت تو سلسلہ عالیہ کے خلاف باغیانہ خیالات رکھنے کی بناء پر لی گئی تھی اور دوبارہ بیعت لینے کا مقصد محض یہ تھا