حیاتِ نور — Page 341
ور ۳۳۹ اور طعن و تشنیع کا موقعہ دے دیتا ہے اور جب وہ جنسی اور ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہا تھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بد قسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے۔اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت کبھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین ، نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نا بود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فر مایا تھا وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے۔ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا۔جبکہ حضرت موسیٰ مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچاویں فوت ہو گئے اور بنی اسرائیل میں ان کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسیٰ کی نا گہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے۔ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا۔