حیاتِ نور

by Other Authors

Page 318 of 831

حیاتِ نور — Page 318

کریں گے لیکن جب عرصہ قریباً ایک ماہ گزر گیا تو میرے یاد دہانی کرانے پر فرمایا۔میں بھولا نہیں ہوں بلکہ اسی فکر میں ہوں۔مگر جب کچھ اور وقت گزرا تو میرے تقاضا پر آپ نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا۔اگر چہ میں مدت دراز سے قرآن مجید کا درس دے رہا ہوں اور کثرت سے قرآن مجید کے دور ختم کر چکا ہوں لیکن میں لکھتا بھی جاتا ہوں اور میرے پاس بڑا انبار مسودوں کا موجود ہے اور ہر مرتبہ میں یہ خیال کرتا ہوں کہ اب یہ کام مکمل ہو گیا اس کو چھاپ دیا جائے۔مگر جب نیا دور درس کا شروع ہوتا ہے تو ایسے عجیب و غریب حقائق اور معارف کا انکشاف از سرنو شروع ہو جاتا ہے کہ میری پچھلی تمام محنت اس کے مقابلہ میں رائگاں ہو جاتی ہے۔سلسلہ تقریر میں یہ بھی فرمایا: دیکھو یہ مرزا بھی جو قرآن مجید کی خدمت کے لئے مامور ہے اس کا ترجمہ یا تغیر شائع نہیں کرتا اور یہ کام امت مسلمہ کے کسی خاص بزرگ یا مجدد نے بھی نہیں کیا۔قرآن مجید کے جتنے تراجم اور تفسیریں لکھی گئی ہیں اگر چہ ان سے فائدہ بھی ہوا ہے۔لیکن عام طور پر عوام الناس نے ان کی بناء پرخودند بر او فکر کرنے کی عادت چھوڑ دی اور ان پر اکتفا کرنے کا عقیدہ اختیار کر لیا۔اس لئے دین اسلام کو سخت نقصان بھی پہنچا ہے لہذا میں باوجود خواہش اور ہمدردی کے بھی دریا کوکوزہ میں بند نہیں کر سکتا۔۱۲۵ مجمع الاحباب والاخوان کی تشکیل ۱۹ مارچ ۱۹۰۸ء ۱۹ مارچ ۱۹۹۸ء کو حضرت خلیفہ المسیح الاول نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجازت سے ایک مضمون "الاحباب والاخوان کی خدمت میں ایک عرض“ کے عنوان سے لکھا۔مضمون چونکہ سارا درج کیا جا رہا ہے۔اس لئے اس کے اغراض و مقاصد پر کچھ علیحدہ لکھنا ضروری نہیں۔قارئین خود پڑھ کر اندازہ کر سکتے ہیں کہ آپ کے دل میں ایک پاک اور مخلص جماعت کی تشکیل اور پھر اس کے ذریعے خدمات اسلام سر انجام دینے کی کس قدر تڑپ تھی۔وہ مضمون یہ ہے۔