حیاتِ نور

by Other Authors

Page 319 of 831

حیاتِ نور — Page 319

۳۱۷ و بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم احباب واخوان احمدیہ کی خدمت میں ایک عرض السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔میں ایک رات اپنی عمر اور بہت بڑی عمر جو عمر امت محمدیہ کی آخری حد پر پہنچنے کو ہے، سوچتے سوچتے بہت گھبرایا، کہ کیا کیا۔بعد الموت نتائج پر غور کرتا ہوا التحیات کے اسرار کی طرف جھکتا جھلکتا مثنوی کے طوطے والی کہانی کی طرف جا پہنچا۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک طوطے نے اپنے تا اجر کو کہا کہ ہند کے طوطیوں کو میرا سلام پہنچا دینا۔منشاء یہ تھا کہ کس طرح میں اس قید سے نجات پاؤں۔تو ان طوطیوں نے کہا کہ جب تک کہ وہ ایک قسم کی موت اپنے اوپر نہ لاوے تو نجات محال ہے۔میں طوطیان الہی ارواح شہدا ء اللہ کی طرف جو جوف طیر خضر میں عرش سے متعلق ہیں ، انتقال کر گیا۔اور السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله و بركاته اور السلام علينا و على عبادالله الصالحین پر تدبر کرتے کرتے جوش کے ساتھ جناب الہی کو تاجر بنایا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور اموال خرید لئے ہیں اور اس کے بدلہ میں ان کو جنت دینے کا وعدہ دیا۔پس اسی لئے ہر ایک مومن کو چاہئے کہ وہ اپنی جان اور مال کو بجز پر وانگی الہی کے خرچ نہ کیا کرے۔کیونکہ اس نے تو اپنی جان اور مال کو خدا کے ہاتھ پر بیچ دیا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام مشتری تاجر رکھا ہے۔اسی سلسلہ میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و برکات وسلام پڑھنے شروع کئے۔آخر اس شغل کے بعد مجھے خیال پیدا ہوا کہ میں اپنے اصحاب بناؤں گی نُسَبِّحُ الله كَثِيراً وَ نَذْكُرُهُ كَثِيراً اور ان کے لئے کوئی امتیازی نشان قائم کروں والحمد للہ کہ شرک و بدعت سے متنفر اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لانے والوں میں بچے اور پکے سنت جماعت فرقہ احمد یہ جو سنت متوارثہ پر عمل کر کے سنی اور امام کے ماتحت ہو کر جماعت ہیں ان میں سے میں نے حسن ظن، استقلال، مرنج مرنجاں حالت والے، دعاؤں کے قائل لوگوں کو بقدر اپنے فہم و محدود