حیاتِ نور — Page 317
۳۱۵ ترندی، ابو داؤد بڑے شاندار لوگ گزرے ہیں۔پر انہوں نے بھی کوئی تفسیر نہیں لکھی صوفیاء کرام میں خواجہ معین الدین ، شہاب الدین سہروردی ، حضرت مجدد صاحب، شاہ نقشبند، حضرت سید عبد القادر جیلانی بڑے عظیم الشان لوگ ہوئے علم ظاہری کے ساتھ علم باطن بھی رکھتے تھے مگر کسی نے کوئی تفسیر نہیں لکھی۔حضرت شہاب الدین کی ایک تفسیر ہے مگر اس میں انہوں نے اپنی کوئی تحقیقات نہیں لکھی۔میں نے بھی ایک تفسیر لکھی تھی اور لوگوں نے اصرار کیا کہ جلد چھپواؤ۔مگر میں نے سوچا کہ میری تفسیر کو دیکھ کر بعد میں آنے والے لوگ ان معنوں پر حصر کرنے لگیں گے کہ یہی معنے ہیں اور بس اور اس طرح قرآن شریف کے حقائق و معارف کا دروازہ وہ آئندہ کے لئے اپنے اوپر بند کر لیں گے۔یہ مولا کریم کی کتاب ہے۔ہر زمانہ کے مباحثات کا اس میں جواب ہے اور ہر زمانہ کے لئے شفاء لما فی الصدور ہے۔اس کو محدود نہیں کر دینا چاہئے۔۱۳۳ ۲۵ رمئی ۱۹۰۹ء کو حضور نے فرمایا: آئمہ اربعه، آئمہ حدیث ، آئمہ تصوف، آئمہ کلام میں سے کسی نے قرآن شریف کی پوری تفسیر نہیں لکھی۔مجھ کو بچپنے ہی سے تفسیر کا بہت شوق ہے۔میں نے کئی مرتبہ تفسیر لکھنی شروع کی اور پوری نہ ہو سکی۔ایک مرتبہ میں نے بڑی دعا مانگی کہ خدا تعالٰی تغییر لکھنے کی توفیق دے۔خواب میں دیکھا کہ مجھ کو ایک دوات دی گئی لیکن وہ خشک تھی۔میں سمجھا کہ اور دعا مانگنی چاہئے کیونکہ پانی ڈالنے سے دوات کام دے سکتی ہے۔پھر دوسری مرتبہ خواب دیکھا کہ ایک قلم دیا گیا جو چرا ہوا تھا۔میں نے سمجھ لیا کہ چڑے ہوئے قلم کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔اس کی وجہ یہی تھی کہ۔میرے اوپر بھی امام کا لفظ آنے والا تھا۔۱۲۴ مکرم ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر مرحوم کی روایت ہے کہ جس زمانہ میں میں نے اخبار بدر نکالا۔میں نے حضور سے التجا کی کہ آر قرآن مجید کا ترجمہ مجھے لکھ دیا کریں تو میں اسے چھاپ کر ہم خرما و ہم ثواب کا مصداق ہو جاؤں۔اس پر آپ نے وعدہ فرمایا کہ پارہ پارہ کر کے ترجمہ لکھ دیا ـور