حیاتِ نور — Page 316
ـور ۳۱۴ قربانی میں ترقی کرنا چاہتے ہو تو اپنے رشتے احمدیوں میں کراؤ۔قرآن کریم کے پہلے پارہ کا ترجمہ حضرت خلیفہ اول نے ترجمہ قرآن کریم کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اس اہم کام کی طرف بھی توجہ فرمائی اور اس ترجمہ کا ایک پارہ نمونہ شائع بھی ہو گیا۔مگر مکمل شائع نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس پر اپنی خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته چونکہ زندگی اور عمر کا اعتبار نہیں اور در حقیقت یہ ضرورت ہے اگر آپ سے انجام پذیر ہو تو بہت ثواب کا کام ہے۔میرے نزدیک اس خدمت سے عمر بھی بڑھتی ہے۔جب حدیث کے خادموں کی طول عمر کی نسبت بہت کچھ ثابت ہے تو پھر قرآن شریف کے خادم کے بارہ میں قوی یقین ہے کہ خدا اس کی عمر میں برکت دیگا۔والسلام لم مرزا غلام احمد ۱۲ یہاں یہ ذکر کر دینا بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کی عربی میں ایک تغیر بھی لکھی تھی اور لوگوں نے اصرار بھی کیا کہ اسے چھپوا دیا جائے مگر آپ نے اسے ضائع فرما دیا۔آپ نے اپنے ایک خطبہ میں اس کا ذکرتے ہوئے فرمایا: قرآن شریف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ کی کوئی حدوبست نہیں۔اسی طرح اس کے کلام کا بھی کوئی حدوبست نہیں۔لہذا کلام الہی کی تفسیر کو ہم کسی خاص معنی میں محدود نہیں کر سکتے۔قرآن شریف اللہ تعالیٰ کا کلام تھا۔بظاہر چاہئے تھا کہ خدا ہی اس کی کوئی تفسیر کر دیتا۔مگر خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب کی کوئی تفسیر نازل نہیں فرمائی۔پھر نبی کریم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قرآن شریف کی کوئی تفسیر نہیں کی۔ان کے بعد خلفائے راشدین کا حق تھا۔انہوں نے بھی کوئی تغییر نہیں کی۔پھر فقہ کے آئمہ اربعہ گزرے ہیں۔حضرت امام ابو حنیفہ ۸۳ ہجری میں ہوئے۔بہت قریب وقت میں تھے۔صحابہ کو دیکھا مگر کوئی تغییر قرآن شریف کی نہ یکھی۔پھر امام شافعی ہوئے ، امام مالک ہوئے۔امام احمد مقبل ہوئے مگر کسی نے قرآن شریف کی تفسیر نہ کھی۔پھر محمد شین بخاری،