حیاتِ نور

by Other Authors

Page 284 of 831

حیاتِ نور — Page 284

فرمایا: ـور ۲۸۴ ہاں وہ ایسا کہا کرتی تھیں۔خدا تعالیٰ نے یہ خواہش بھی ان کی پوری کر دی۔چند روز ہوئے۔ابھی ہم باغ میں تھے کہ وہ ایک دن سخت بیمار ہو گئیں اور قریب موت کے حالت پہنچ گئی تو کہنے لگیں کہ آج تو منگل ہے اور ہنوز جمعہ دور ہے۔اور ابھی عبد الحئی کی آمین بھی نہیں ہوئی۔قدرت خدا، اس وقت طبیعت بحال ہو گئی اور پھر خواہش کے مطابق عبدالحئی کی آمین کی خوشی بھی دیکھی اور آخر جمعہ کا دن ہی پایا مرحومہ نے اپنی عمر میں بہت شدائد اور مصائب اٹھائے ، کتنی اولا د مرگئی۔یہ مصائب جو قضا و قدر سے انسان پر پڑتے ہیں۔اس کمی کو پورا کر دیتے ہیں جو انسان سے اعمال حسنہ میں رہ جاتی ہے۔جب حضرت اقدس کے صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تولد ہوئے تو حضور نے مرحومہ کو فرمایا تھا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے اس لئے میاں بشیر احمد صاحب کے ساتھ مرحومہ کو خاص محبت تھی۔صاحبزادہ بشیر احمد صاحب جنازہ کے ساتھ اور پھر دفن کے وقت اس طرح موجود رہے کہ ان کا چہرہ اس اندرونی محبت کو ظاہر کرتا تھا۔مرحومہ کی عادت مہمان نوازی کا یہ حال تھا کہ ان کی دلی خواہش تھی کہ ہمارے باورچی خانہ میں ایک سیر پختہ نمک خرچ ہوا کرے۔انھم اغفر ھاوار تمھا۔وفات صاحبزادہ عبد القیوم ۱۲ راگست ۱۹۰۵ء ۱۲ اگست ۱۹۰۵ء کوقبیل دو پہر حضرت مولوی صاحب کے صاحبزادہ عبدالقیوم چند دن خسرہ میں مبتلا رہنے کے بعد وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔عمر ایک سال گیارہ ما تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے سنت نبوی کی متابعت میں دفن ہونے سے پہلے بچے کو بوسہ دیا اور آپ کی آنکھیں پر تم ہو گئیں اور فرمایا: میں نے بچہ کا منہ اس واسطے نہیں کھولا تھا کہ مجھے کچھ گھبراہٹ تھی بلکہ اس واسطے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم جب فوت ہوا تھا تو آنحضرت نے اس کا مونہہ چوما تھا اور آپ کے آنسو بہہ نکلے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی مدح کی اور فرمایا کہ جدائی تو تھوڑی دیر کے لئے بھی پسند نہیں ہوتی۔پر ہم خدا کے فضلوں پر راضی ہیں۔اسی سنت کو پورا کرنے کے واسطے میں نے بھی اس کا مونہ کھولا اور