حیاتِ نور

by Other Authors

Page 285 of 831

حیاتِ نور — Page 285

۲۸۵ چوما۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور خوشی کا مقام ہے کہ کسی سنت کے پورا کرنے کا موقع عطا ہو۔حضرت اقدس نے آپ کو دہلی بلا لیا۔۲۸ /اکتوبر ۱۹۰۵ء AY ۲۲ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو حضرت اقدس حضرت ام المومنین کو آپ کے خویش واقارب سے ملانے کے لئے دہلی تشریف لے گئے۔ابھی دہلی پہنچے چند ہی دن ہوئے تھے کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب بیمار ہو گئے۔اس پر حضور کو خیال آیا کہ اگر مولوی نورالدین صاحب کو بھی دہلی بلا لیا جائے تو بہتر ہوگا۔^ چنانچہ حضرت مولوی صاحب کو تار دلوا دیا۔جس میں تار لکھنے والے نے ایجی ایٹ (Immediate) یعنی بلا توقف کے الفاظ لکھ دیئے۔جب یہ تار قادیان پہنچا تو حضرت مولوی صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس خیال سے کہ حکم کی تعمیل میں دیر نہ ہو۔اسی حالت میں فورا چل پڑے۔نہ گھر گئے نہ لباس بدلا نہ بستر لیا۔اور لطف یہ ہے کہ ریل کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔گھر والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے پیچھے سے ایک آدمی کے ہاتھ کمبل تو بھجوادیا مگر خرچ بھیجوانے کا انہیں بھی خیال نہ آیا اور ممکن ہے گھر میں اتنا روپیہ ہو بھی نہ۔جب آپ بٹالہ پہنچے تو ایک متمول ہندور کیس نے جو گویا آپ کی انتظار ہی کر رہا تھا، عرض کی کہ میری بیوی بیمار ہے۔مہربانی فرما کر اسے دیکھ کرنسخہ لکھ دیجئے۔فرمایا۔میں نے اس گاڑی پر دہلی جاتا ہے۔اس رئیس نے کہا۔میں اپنی بیوی کو یہاں ہی لے آتا ہوں۔چنانچہ وہ لے آیا۔آپ نے اسے دیکھ کرنسخہ لکھ دیا۔وہ ہندو چکے سے دہلی کا ٹکٹ خرید لایا۔اور معقول رقم بطور نذرانہ بھی پیش کی۔اور اس طرح سے آپ دہلی پہنچ کر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔۱۷ دہلی میں آپ کا وعظ ۳ رنومبر ۱۹۰۵ء دیلی میں ۳ نومبر ۱۹۰۵ء کو بعد نماز جمعہ حضرت مولوی صاحب کا وعظ ہوا۔حاضری کافی تھی۔آپ نے پہلے قرآن مجید اور احادیث سے انسان کے براہ حق سے محروم رہنے کے اسباب بیان فرمائے۔پھر وفات مسیح کے دلائل دینے شروع کئے۔ابھی وعظ جاری تھا کہ مخالفین نے یہ محسوس کر کے کہ سامعین بہت متاثر ہورہے ہیں ، شور مچانا شروع کر دیا اور ایک دوسرے کو دھکے دے کر جلسہ کو خراب کرنے کی کوشش کی۔حضرت اقدس بنفس نفیس اس جلسہ میں موجود تھے۔حضور نے خود اٹھ کر لوگوں کو خاموش رہنے کی تلقین فرمائی۔جس پر اکثر لوگ ٹھہر تو گئے مگر وعظ سننے کی بجائے سوال و جواب کا سلسلہ بدره اگست ۱۹۰۵ء حاشیہ ریکارڈ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ صاحبوارہ عبد القیوم کی وفات ۱۲ اگست کو ہوئی تھی مگر جس پر چہ میں ذکر ہے اس پر ۱۰ اگست لکھا ہوا ہے۔اس لئے ممکن ہے کہ پر چہ ۱۲/۱۳ اگست کو شائع ہوا ہو۔واللہ اعلم بالصواب