حیاتِ نور — Page 283
PAP مرحومہ مفتی شیخ مکرم صاحب قریشی نعمانی کی صاحبزادی تھیں اور حضرت مولوی صاحب کے نکاح میں اس وقت آئی تھیں جبکہ آپ ہند و عرب سے تحصیل علوم کر کے کوئی تمہیں برس کی عمر میں اپنے وطن عزیز بھیرہ میں واپس تشریف لے آئے تھے اور قریب ۳۷ برس تک آپ کی محرم راز رہ کر قریباً پچپن سال کی عمر میں وفات پائی۔بھیرہ میں تقلیدی رسوم اور بدعات کی مخالفت سب سے پہلے حضرت مولوی صاحب ہی نے کی تھی۔اور یہی گروہ مخالف اس نکاح میں ہارج اور مانع ہوا تھا۔مگر مفتی شیخ صاحب نے اس کی پروانہ کر کے اس کام کو تکمیل تک پہنچایا۔اور مرحومہ یوم نکاح سے لے کر مرتے دم تک اپنے خاوند کے ساتھ ہم مذہب وہم عقیدہ رہیں۔مرحومہ صلہ رحمی کی صفت میں کمال رکھتی تھیں۔اپنے نواسوں اور نواسیوں (یعنی مولوی عبد الواحد غزنوی اور مفتی فضل الرحمٰن کی اولاد) کی پرورش مرتے دم تک اپنے ذمہ لی ہوئی تھی اور مفتیوں کے گھر میں ان کی چھوٹی لڑکی کا رشتہ انہیں کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔باوجود اس قدر بیماری کے جو مدت سے ان کے لاحق حال تھی، گھر کا سب کام کھانے پکانے وغیرہ کا خود کرتی تھیں۔دور و نزدیک کے رشتہ داروں کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کرتی رہتی تھیں اور سب کی خبر گیری کرتی تھیں۔مرحومہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ سچا اخلاص اور ایمان تھا۔فرمایا کرتی تھیں کہ مولوی صاحب کا یہ احسان ہے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے مسیح کو شناخت کیا۔لیکن اب تو میرے دل میں خدا تعالیٰ کے رسول کی اس قدر محبت ہے کہ اگر کوئی بھی اس سے پھر جائے میں اس سے منہ نہیں پھیر سکتی۔بعد نماز عصر مرحومہ کا جنازہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے معہ جماعت کثیر با ہر میدان میں پڑھا۔نماز جنازہ میں دعا کو بہت ہی لمبا کیا۔قبل مغرب مرحومہ کو قادیان کے شمال مشرقی جانب کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں بلند جگہ نصیب فرمائے۔آمین رات ۲۸ جولائی ۱۹۰۵ء حضرت مسیح موعود کی مجلس میں حضرت نے خود ہی مرحومہ کا ذکر کیا۔فرمایا: " وہ مجھے کہا کرتی تھیں کہ میرا جنازہ آپ پڑھائیں اور میں نے دل میں پختہ وعدہ کیا ہوا تھا کہ کیسا ہی بارش یا آندھی وغیرہ کا بھی وقت ہو میں ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔آج اللہ تعالیٰ نے ایسا موقعہ دیا کہ طبیعت بھی درست تھی اور وقت بھی صاف میسر آیا اور میں نے خود جنازہ پڑھایا۔ایڈیٹر صاحب البدر نے عرض کیا کہ ان کی یہ خواہش تھی کہ میری وفات جمعہ کے دن ہو۔فرمایا: